بنیادی صفحہ / اہم خبریں / بحرین کے بادشاہ پاکستان آرہے ہیں لیکن کیوں؟

بحرین کے بادشاہ پاکستان آرہے ہیں لیکن کیوں؟

بحرین کے بادشاہ شیخ حمدبن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ سمیت دیگر حکام ایک مرتبہ پھر پاکستان میں تلور کا شکار کرنے آرہے ہیںاور اس ضمن میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق صرف ان لوگوں کو شکار کی اجازت ہوگی جن میں کے نام نوٹیفکیشن میں موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال بھی ان لوگوں کیلئے پرمٹ جاری کیاگیا تھاجن میں بحرین کے بادشاہ ، ان کے چچا، آرمڈ فورسز کے کمانڈر انچیف، وزیرداخلہ اور بادشاہ کے مشیربرائے دفاع شامل ہیں جوسیزن2017-18ءکے دوران تلور کا شکار کرسکیں گے ۔ وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول نعیم اقبال قیمہ کی طرف سے جاری ہونیوالا نوٹیفکیشن پاکستان میں بحرین کے سفارتخانے بھجوادیاگیا تاکہ بادشاہ اور ان کے ساتھیوں تک پہنچ سکے ۔

نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پاکستان نے متعلقہ صوبائی حکومت کو بھی ضلع جامشورو کی تحصیل تھانوبلا خان ، کوٹری ، منجھند اور سہون میںشکارگاہ کی الاٹمنٹ کے بارے میں آگاہ کردیاگیا۔ صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس ضمن میں ضروری پرمٹ جاری کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بادشاہ کے انکل شیخ ابراہیم بن حماد بن عبداللہ الخلیفہ کو ضلع سجاول کی تحصیل شاہ بندر، آرمڈ فورسز کے چیف شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ کو ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل توئیسر، مشیر شیخ عبداللہ کو سجاول کی تحصیل جاتی، وزیرداخلہ کو ضلع جعفرآباد، بحرینی شاہی خاندان کے شیخ محمد بن حماد الخلیفہ کو ملیر کینٹ سمیت ضلع ملیر الاٹ کیاگیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایک شکاری10دن کے وقفے میں100تلور مارسکتا ہے لیکن عمومی طورپر اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*