بنیادی صفحہ / اہم خبریں / نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے والا قانون ہائی کورٹ میں چیلنج

نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے والا قانون ہائی کورٹ میں چیلنج


لاہور: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے سیکریٹری آفتاب احمد باجوہ نے الیکشن ایکٹ 2017 کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔خیال رہے کہ رواں برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا تھا۔بعد ازاں نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا تھا، تاہم الیکشن ایکٹ 2017 کی مدد سے نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب کر لیا گیا تھا۔ایس سی بی اے کے سیکریٹری آفتاب احمد باجوہ کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیقی نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اعلیٰ عدالت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہلی کا جو فیصلہ سنایا گیا ہے اسے ذیلی آئینی ترمیم کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔درخواست گزار نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے منعقد کیے جانے والے الیکشن کو بھی غیر آئینی قرار دیا جس میں نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب کیا گیا۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر آئین کے مطابق ایک شخص پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتا تو یقیناً وہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کی سربراہی بھی نہیں کر سکتا۔آفتاب احمد باجوہ نے زور دیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 ایک طے شدہ قانون ہے جو نہ تو بلواسطہ اور نہ ہی بلاواسطہ تبدیل ہو سکتا ہے۔اپنی درخواست میں ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے پارٹی صدارت کے لیے الیکشن کروا کر ملک میں انصاف کا مذاق اڑایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں لامحدود اور غیر واضح اختیارات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے حکمراں جماعت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے اور آئینی تشریحات کو بھی عبور کردیا۔ ایس سی بی اے کے سیکریٹری نے موقف اختیار کیا کہ واحد قانون سازی کی مدد سے الیکشن سے متعلق قوانین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں ایک شق آرٹیکل 17 کے تحت ملنے والے لامحدود حقوق کو ختم نہیں کرسکتی تاہم آئین میں واضح لکھا ہے کہ پاکستان کے قانون کے تحت عائد پابندیوں سے مشروط کسی بھی شخص کو سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی ایک شخص یا سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے قانون کی ایک شق میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی جس پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے آئین سے نااہلی کی شرط نکالنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، جبکہ ایسے طریقہ کار سے اس طرح کی قانون سازی کارگر نہیں ہوسکتی۔درخواست گزار نے الیکشن ایکٹ کی شق 232 کو بھی چیلنج کردیا، جس کے مطابق کسی بھی شخص کی نااہلی پانچ سال سے زائد نہیں رہ سکتی۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ نواز شریف کو پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی کی صدارت سے بھی نااہل قرار دیا جائے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*