بنیادی صفحہ / اہم خبریں / مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں واضح کمی

مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں واضح کمی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد کی فہرست جاری کردی جس میں خواتین اور مردوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے، ملک بھر کے 136 اضلاع میں خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد کا فرق سامنے آیا۔

ای سی پی کی جانب سے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد کی تجزیاتی رپورٹ ویب سائٹ پر شائع کی گئی جس کے مطابق پنجاب کے 2 اضلاع لاہور اور فیصل آباد کے ووٹرز کی تعداد میں 11 لاکھ 50 ہزار جبکہ خیبرپختونخوا اور سندھ کے کل ملا کر 17 اضلاع میں خواتین اور مرد رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں نمایاں فرق موجود ہے۔

لاہور میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 49 لاکھ ہے جن میں سے7 2 لاکھ 70 ہزار مرد اور 21 لاکھ 20 عورتیں ہیں، اس طرح خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد میں 6 لاکھ 48 ہزار اور 421 کا فرق موجود ہے جبکہ فیصل آباد کے کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 40 لاکھ کے قریب ہے جن میں 22 لاکھ 90 ہزار مرد اور 17 لاکھ 80 ہزار خواتین ہیں، یہاں بھی خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد میں 5 لاکھ 7 ہزار 9 سو 20 کا فرق موجود ہے۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ضلع گوجرانوالہ میں مرد ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ 60 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 10 لاکھ 90 ہزار ہے، اس حساب سے دونوں کی تعداد میں 3 لاکھ 73 ہزار کا فرق موجود ہے۔

پڑھیں: مردم شماری کے عبوری نتائج جاری، آبادی20 کروڑسے متجاوز

کراچی کے ضلع غربی (ویسٹ) میں مرد ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 43 ہزار 7 سو 57 اور خواتین کی 6 لاکھ 10 ہزار 6 سو 52 کے قریب ہے، اس حساب سے دونوں کے درمیان 3 لاکھ 33 ہزار اور 105 کا فرق جبکہ ضلع سیالکوٹ میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں 3 لاکھ 18 ہزار 50 ووٹرز کا فرق موجود ہے۔

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 50 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد9 لاکھ 39 ہزار سامنے آئی جس کے حساب سے دونوں کے مابین 3 لاکھ 13 ہزار کا فرق سامنے آیا۔

پنجاب کے علاقے شیخوپورہ میں خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار اور 6 لاکھ 38 ہزار ہے، دونوں کے مابین فرق 2 لاکھ 71 ہزار جبکہ ضلع قصور میں خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد میں 26 لاکھ 20 ہزار کا فرق سامنے آیا۔

الیکشن کمیشن کے جاری اعداد و شمار — فوٹو/ ڈان
الیکشن کمیشن کے جاری اعداد و شمار — فوٹو/ ڈان
پنجاب کے ضلع سرگودھا اور خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور میں 2 لاکھ 45 ہزار خواتین اور مرد ووٹرز کی گنتی کا فرق سامنے آیا، الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سرگودھا میں خواتین ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 31 ہزار جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 70 ہزار کے قریب ہے جبکہ پشاور میں 8 لاکھ 96 ہزار مرد اور 6 لاکھ 51 ہزار خواتین رجسٹرڈ ووٹرز شامل ہیں۔

بہاولپور کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 8 لاکھ 24 ہزار جبکہ خواتین کی تعداد 6 لاکھ 15 ہزار ہے، دونوں کے مابین 2 لاکھ 8 ہزار کا فرق ہے، پنجاب کے علاقے وہاڑی میں مرد ووٹرز کی تعداد 83 لاکھ 8 ہزار جبکہ خواتین کی تعداد 6 لاکھ 34 ہزار کے قریب سامنے آئی، اسی طرح اوکاڑہ اور ملتان کے اضلاع میں بھی مردوں اور خواتین کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں 2 لاکھ کا فرق موجود ہے جبکہ دیگر اضلاع راولپنڈی، بہالوپور، جھنگ، خانیوال اور گجرات میں بھی تقریباً دونوں کی تعداد میں 2 لاکھ کا فرق سامنے آیا۔

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں جن میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کا علاقہ شمالی وزیرستان، چارسدہ، لوئر دیر، مانسہرہ، صوابی جبکہ پنجاب کے علاقوں ننکانہ صاحب، ناروال، منڈی بہاؤ الدین، پاکپتن میں تقریبا مردوں اور خواتین کے درمیان تقریبا 1 لاکھ کی تعداد کا فرق سامنے آیا۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں سے کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 ہزار 4 سو 97 ہے جن میں خواتین 2 ہزار 602 جبکہ بقیہ مرد ہیں اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان کے کُل رجسٹرڈ ووٹرز 26 ہزار 146 ہے جن میں 15 ہزار 6 سو 29 مرد اور 10 ہزار 5 سو 17 خواتین ووٹرز ہیں جبکہ کوہاٹ میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 50 ہزار 713 ہے جن میں 18 ہزار 1 سو 98 خواتین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات 2018 : الیکشن کمیشن کی تیاریاں تیز

واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد میں 10 کروڑ 79 لاکھ تھی ، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2015 میں خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد کے فرق میں اضافہ ہوا جس کے بعد یہ بڑھ کر 11 کروڑ 65 لاکھ اور پچاس ہزار تک پہنچی۔

الیکشن کمیشن کے سینئر افسر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنے طور پر خواتین ووٹرز کی تعداد کو رجسٹرڈ کروانے میں کردار ادا کریں، الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے افراد میں سے بیشتر کی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*