133

آج کی بڑی خبر: شریف خاندان کے قبضہ سے کتنی ایکڑ زمین واگزار کروا لی گئی؟ جان کر آپ بھی کپتان کو داد دیں گے

لیکن اس کے مالکان کے پاس زمین کا قبضہ موجود تھا.علاوہ ازیں اے سی ای کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف سے پاک پتن میں بابا فرید کے مزار سے منسلک زمین کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق 3 دہائی پرانے کیس کی دوبارہ پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے.2 ماہ قبل اے سی ای کی 4 رکنی ٹیم نے مذکورہ کیس سے متعلق جیل میں نواز شریف کا بیان ریکارڈ کیا تھا.تاہم نواز شریف اے سی ای کو تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اتنی پرانی بات کیسے یاد رکھ سکتے ہیں.ذرائع کے مطابق جب اے سی ای ٹیم نے نواز شریف سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر رہتے ہوئے 1986 میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین الاٹ کرنے کے الزام سے متعلق جواب طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ یہ 30 سال پرانا کیس ہے اور مجھے اس حوالے سے کچھ یاد نہیں، میری قانونی ٹیم اس حوالے سے جواب دے گی‘.اس سے قبل رواں برس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی ( جے آئی ٹی) نے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے خلاف 17 دسمبر 1969 کا نوٹی فکیشن واپس لینے اور 1986 میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزار کے گرد محکمہ اوقاف کی 14،394 کنال زمین دیوان غلام قطب کو الاٹ کرنے کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی تجویز دی تھی، جے آئی ٹی نے کارروائی کے لیے کئی افراد کے نام بھی تجویز کیے تھے.

ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ’ اے سی ای کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے سے متعلق بیان ریکارڈ کروانے کے لیے شریف خاندان کو جلد نوٹسز جاری کیے جائیں گے ‘.انہوں نے کہا کہ ذرائع سے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر پاک پتن اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سےمذکورہ معاملہ اٹھایا گیا تھا جنہوں نے اتفاق ملز کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضے کی تصدیق کی تھی.عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ اس اقدام کو سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جائے کیونکہ اے سی ای سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والے افراد کے خلاف صفر برداشت کا مظاہرہ کررہی ہے‘.گزشتہ روز اے سی ای، ریونیو اور پولیس حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا، قبضے میں لی گئی 36 کنال اراضی میں سے 16 کنال زمین خالی تھی اور دیگر اراضی پر چینی کے گودام اور لیبارٹری قائم کی گئی تھیں.عہدیدار کے مطابق قبضے میں لی گئی سرکاری اراضی کی مالیت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے ہے اور 1982 سے لے کر اب تک زمین کا کرایہ ادا نہیں کیا گیا جو کہ اربوں میں ہوگا.انہوں نے کہا کہ اس وقت مل فعال نہیں کیونکہ شریف خاندان نے ایک اور شوگر مل کے قیام کے لیے اس کی مشینری رحیم یار خان منتقل کی تھی .عہدیدار نے کہا کہ ساہیوال میں قائم مل کچھ عرصے سے فعال نہیں تھی

ساہیوال ڈپٹی کمشنر، ریونیو اور پولیس حکام کے تعاون سے سرکاری ارضی واگزار کروانے کے بعد اے سی اے کے سربراہ گوہر نفیس نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے ملز مالکان سے 37 سال کے کرائے کے حصول کے لیے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا.

پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ( اے سی ای ) نے شریف خاندان کی جانب سے ساہیوال میں قائم اتفاق شوگر ملز سے 37 سال قبل مبینہ طور پر قبضے میں لی گئی 36 کنال سرکاری اراضی واگزار کرالی . اے سی ای نے بتایا کہ اتفاق شوگر ملز نے 36 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا تھا اور 1982 میں اس زمین کو اپنی ملز شامل کیا تھا تاہم اتفاق شوگر ملز نے ایک اور شوگر مل کے قیام کے لیے اپنی مشینری رحیم یار خان منتقل کی تھی بعدازاں سپریم کورٹ نے شوگر ملز کی منتقلی کو روک دیا تھا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں