81

پاکستان کا امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کاحصہ بننا سنگین غلطی تھی ، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اسلام صرف ایک ہے ، انتہا پسند اوراعتدال پسند اسلام کی اصطلاحوں کومسترد کرتا ہوں، پاکستان کا امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کاحصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ، نائن الیون کے بعد امریکہ نے اچانک مجاہدین کو دہشت گرد کہنا شروع کردیا ۔

نیویارک میں امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ کرکٹ سے میں نے سیکھا کہ کامیابی کیسے حاصل کی جاتی ہے، کھیل مقابلہ کرنا اوربرے حالات کا سامنا کرنا سکھاتے ہیں؟22سال کی جدو جہد کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں، ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جاناپڑا ۔انہوں نے کہا کہ گھروں کوچلانے کیلئے خرچ کم اور آمدن بڑھانا ہوتی ہے ، گزشتہ حکومتیں معیشت کی سمت درست کرنے میں ناکام رہیں ، ہم کوخراب معیشت ورثے میں ملی ، حکومت ملی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا سامنا تھا ،خسارے سے نکلنے کیلئے سعودی عرب ،چائنہ اوردیگر مسلم ملکوں نے مدد کی ،چین نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے پاکستان کی مدد کی، ماضی میں اخراجات کے مقابلے میں آمدن کوبڑھایا نہیں جاسکا ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف پاکستان نے امریکہ کی مدد کی، سوویت فوج نے افغان جنگ کے دوران دس لاکھ افغان شہریوں کو جاں بحق کیا ، روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ نے پاکستان کوتنہا چھوڑ دیا۔نائن الیون کے بعد امریکہ کوپھر پاکستان کی ضرورت پڑی ،نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہوکر بڑی غلطی کی ، پاکستان کا امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کاحصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ، نائن الیون کے بعد امریکہ نے اچانک مجاہدین کو دہشت گرد کہنا شروع کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کودہشت گردی کے خلاف 200ملین ڈالر کا نقصان ہوا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70ہزارلوگوں نے جانیں قربان کیں ۔ پاکستان میں اس وقت بھی 27لاکھ مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے ، افغانستان میں کبھی بیرونی طاقت قبضہ نہیں کرسکی ،برطانیہ کو بھی افغانستان میں بہت مزاحمت کا سامنا کرناپڑا تھا، ڈیورنڈ لائن برطانیہ نے بنائی تھی ، اب ہم اس پر باڑ لگا رہے ہیں ،2008میں امریکہ آیاتو ڈیمو کریٹس کوبتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغان شہری 40سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کررہے ہیں، افغان عوام امن چاہتے ہیں ، میں نے سمجھتا کہ طالبان سارے افغانستان کو کنٹرول کرسکتے ہیں ، ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں اور ان کا مورال بہت بلند ہے، طالبان نے ماضی سے سبق سیکھاہے ، ان کوپتہ ہے کہ وہ سارے افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکتے ، میں سمجھتا ہوں کہ افغان مسئلہ بہت مشکل ہے، بدقسمتی سے افغان امن معاہدہ آخری لمحات میں طے نہ پاسکا، افغانستان میں سیاسی مذاکرات کی کامیابی بہت مشکل مرحلہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد کا نتیجہ کیارہا ؟ اس کے بارے میںمعلوم نہیںہے ۔پاکستان اپنے تمام پڑوسی ملکوں سے امن چاہتا ہے ،افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کے لئے مدعو کیاہے، پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کے ساتھ ہے ، مودی کوبتایا تھا کہ فوج سمیت پورا ملک میرے ساتھ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے بعد بھارت کے الزام پر ثبوت مانگے لیکن بھارت نے ثبوت دینے کی بجائے بمباری کردی ، ہمیں پتہ ہے کہ بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کررہاہے ، پھر کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کررہاہے ۔ بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کوبنیاد بناکر چلائی گی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کرفیولگا کر 80لاکھ کشمیریوں کو 50روز سے بند کررکھاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ممالک میں جنگ کی وجہ سے کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔عالمی برداری بھارت کوکشمیر سے کرفیو اٹھانے کا کہے ، ٹرمپ سے بھارت کے معاملے پر بات کی تھی ، سب پر واضح کیا کہ پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ، بھارت کوبتایا تھا کہ غربت کے خاتمے سمیت دونوں ملکوں کی ترجیحات ایک ہیں ، پاکستان میں اقلیتوں کومساوی حقوق حاصل ہیں، میرا منشور قانون کی حکمرانی اور کمزوروں کی مدد کرناہے، کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع ایشو ہے ، ان حالات میں کیسے بات چیت کرسکتے ہیں؟اقوام متحدہ کواپنا کردار ادا کرناچاہئے ، یہ ادارہ اسی لئے وجود میں لایا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کوملاقات میں بتاﺅں کا افغان مسئلہ کا فوجی حل ممکن نہیں ہے ۔

وزیر اعظم کا کہناتھا کہ اسلام صرف ایک ہے، معتدل یا بنیاد پرست اسلام کی اصطلاحوں کومسترد کرتا ہوں ، ہمارے نبیﷺ نے فرمایاہے کہ تمام انسان حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیں ، اسلام نے اقلیتوں کوبرابر کے حقوق دیئے ہیں ، اسلام کے مطابق تمام انسان برابر ہیں ، بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے حکمرانوںنے خود کو قانون سے بالاتر رکھا ۔اسلام نے اقلیتوں کوبرابر کے حقوق دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر کسی انتہا پسند گروپ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں