65

مقبوضہ کشمیر کی ننھی آصفہ بانو اجتماعی زیادتی کیس کا فیصلہ آگیا، عدالت نے 6 مجرموں کو سخت سزائیں سنادیں

مقبوضہ کشمیر کی ننھی آصفہ بانو اجتماعی زیادتی کیس کا فیصلہ آگیا، عدالت نے 6 مجرموں کو سخت سزائیں سنادیں

مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پٹھان کوٹ کی عدالت نے کٹھوعہ زیادتی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 3 مجرموں کو عمر قید اور 3 مجرموں کو 5، 5 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت نے آصفہ بانو زیادتی کیس میں ماسٹر مائنڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپ کھجوریہ کو عمر قید کی سزا سنادی ہے، ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے ۔ شواہد مٹانے کے الزام میں تین پولیس اہلکاروں تلک راج، سریندر کمار اور آنند دتہ کو 5، 5 سال قید اور 50، 50 ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

چارج شیٹ میں سانجھی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال(سانجھی رام کا نا بالغ بھتیجا) پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔

واضح رہے کہ کٹھوعہ جنسی زیادتی کا معاملہ ایک 8 سالہ کشمیری بچی آصفہ بانو کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل سے متعلق ہے جو بھارت کی ریاست جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کے گاو¿ں رسانہ میں جنوری 2018ءمیں پیش آیا۔12 جنوری 2018ءکو محمد یوسف نے ہیرا نگر پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرائی کہ اس کی آٹھ سالہ بیٹی لاپتہ ہے۔ مدعی نے بتایا کہ اس کی بیٹی 10 جنوری 2018ءکو قریبی جنگل میں ساڑھے 12 بجے گھوڑے چرانے لے گئی تھی۔ اسے دو بجے تک دیکھا گیا مگر 4 بجے گھوڑے تو گھر لوٹ آئے مگر وہ ساتھ نہ آئی۔

مقدمے کے اندراج کے بعد 17 جنوری 2018 کو آصفہ بانو کی لاش قریبی جنگل سے ملی۔ تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ ننھی بچی کو ایک مندر میں کئی روز تک نشہ آور ادویات کے زیر اثر رکھا گیا جس دوران کئی لوگوں نے اسے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں پتھر سے کچل کر قتل کردیا۔

ضرور پڑھیں: ہائیکورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد زرداری نے بھی اہم فیصلہ سنا دیا

کرائم برانچ نے معاملے کی جانچ کی اور 7 لوگوں کو ملزم قرار دیا لیکن جب چارج شیٹ پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو وکلا نے دھرنا دے دیا۔ وکلا کے رویے کے باعث اس کیس کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی اور لوگوں نے آصفہ کے انصاف کیلئے آواز اٹھانا شروع کی۔ دوسری جانب ہندو انتہا پسند تنظیموں نے واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی اور مجرموں کو بچانے کیلئے جلوس نکالے گئے جس میں بی جے پی کے وزرا بھی شریک ہوئے، ریپ کے مجرموں کو بچانے کیلئے نکالے گئے جلوسوں کے باعث یہ کیس عالمگیر شہرت پاگیا جس کا آج (پیر کو) فیصلہ سنایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں