107

مذاکرات میں پیشرفت پر افغانستان میں فوج کی تعداد کم کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

مذاکرات میں پیشرفت پر افغانستان میں فوج کی تعداد کم کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب سے اقتدار سنبھالا ہے امریکی معیشت دگنی رفتار سے ترقی کررہی ہے
واشنگٹن : صدر ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین عرصہ دراز سے ہماری صنعتوں کو نشانہ بنا رہا تھا، چین ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے سے باز رہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس میں اسٹیٹ آف دی یونین سے کرتے ہوئے کہا کہ جب سے اقتدار سنبھالا ہے امریکی معیشت دگنی رفتار سے ترقی کررہی ہے، دنیا کی معیشتیں تنزلی کی جانب جبکہ امریکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےامریکامیں 53لاکھ نوکریاں پیداکیں، صرف پچھلے ماہ 3 لاکھ 4 ہزار ملازمت کے مواقع پیدا کیے، امریکا میں بے روز گاری کی شرح اس وقت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور پچاس لاکھ امریکی شہری خط غربت سے باہر آچکے ہیں۔

دنیا میں امریکیوں کے ہم پلہ کوئی نہیں لیکن ہمیں عظیم سے عظیم تر بننے کا انتخاب کرنا ہوگا، ہمیں اجتماعی مفاد کیلئے انتقامی سیاست چھوڑنا ہوگی، صرف احمقانہ جنگ اور سیاست ہی امریکی ترقی کے آڑے آسکتی ہے، فتح اپنی جماعت کی نہیں بلکہ ملک کی جیت کا نام ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا رواں برس پھر چاند جھنڈا لہرائے گا اور اس سال امریکی خلاف میں راکٹ لے کر جائیں گے۔

امریکی آرمی زمین پر سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے، امریکا جدید دفاعی میزائل سسٹم بنا رہا ہے، ہم نے امریکی فوج کو جدید بنانے کیلئے 2 سال میں ایک ہزار 416 ارب ڈالر خرچ کیے۔

میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اب ہمیں غیر قانونی امیگریشن کا خاتمہ کرنا ہوگا، غیرقانونی امیگریشن سے ملک میں جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، غیرقانونی امیگریشن کے باعث الپاسو ملک کا سب سے خطرناک شہر بن چکا ہے۔

میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میکسیکو بارڈر پر دیوار ضرور تعمیر ہوگی، ہم چاہتے ہیں کہ سب سے زیادہ لوگ امریکا آئے لیکن انہیں قانونی طور پر داخل ہونا ہوگا۔

چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ

امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو خبردارکرتے ہوئے کہا کہ چین عرصہ درازسے ہماری صنعتوں کو نشانہ بنا رہا تھا، امریکی معیشت کونقصان پہنچانے سے باز رہے۔

چینی مصنوعات پر 250 ارب ڈالر کا ٹیکس لگایا جس کے بعد سے امریکی خزانے میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہورہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین پر واضح کردیا کہ امریکی دولت اور نوکریاں چوری کرنے کا وقت گزر گیا۔

ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مردہ باد کا نعرہ لگانے والے ملک کو نظر انداز نہیں کرسکتے، یہودیوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والے ملک کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران سے متعلق کہا کہ ایران ریاست دہشت گردی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے، ایران کے خلاف ہم نے فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے ایران کےلیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول ناممکن بنایا۔

سابقہ دور حکومت میں ایران کے ساتھ طے ہونے والا جوہری معاہدہ تباہ تھا ہم نے ایران کو جوہری ملک بننے سے روکنے کےلیے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔

مشرق وسطیٰ کے مسائل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آد دی یونین خطاب میں مشرق وسطیٰ متعلق کہا کہ مذکورہ خطے میں امریکا کو پیچیدہ ترین مسائل کا سامنا ہے، افغانستان، شام میں 7 ہزار امریکی ہلاک، 52 ہزار زخمی ہوئے، امریکا مشرق وسطیٰ میں اب تک 7 کھرب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔

داعش کے زیر قبضہ عراق، شام میں تقریباً تمام رقبہ آزاد کروا چکے ہیں، جبکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کے بچے کچے عناصر کا خاتمہ کر رہے ہیں لیکن اب شام سے بہادر امریکی افواج کی گھر واپسی کا وقت آگیا ہے۔

سنی سنائی کہانیوں کے بجائے ہمارا نقطہ نظر حقیقت پر مبنی ہے، ہم نے اسرائیل کے حقیقی دارالحکومت کو تسلیم کیا، یروشلم میں امریکی سفارتے خانے کا فخریہ افتتاح کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان اور روس سے متعلق بیان

روس سے معاہدے کے تحت میزائل صلاحتیں محدود کی تھیں، ہم نے روس کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر من و عن عمل کیا لیکن روس امریکا کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی متواتر خلاف ورزی کرتا رہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سیاسی حل کےلیے مذاکرات میں تیزی لائے ہیں، اب ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں۔

افغانستان میں طالبان سمیت کئی گروہوں سے تعمیری مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں پیشرفت پر فوج کی تعداد کم کریں گے۔

افغانستان میں 2 دہائیوں کے بعد امن کو موقع دینے کا وقت آگیا ہے، افغانستان میں فوج کی تعداد کم کر کے انسداد دہشت گردی پر توجہ دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ نیٹو کا عرصہ دراز سے امریکا سے رویہ نامناسب تھا، اب 100 بلین ڈالر نیٹو اتحادی بھی بجٹ میں اپنا حصہ دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں