بنیادی صفحہ / اہم خبریں / محمود خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کا حلف اٹھالیا

محمود خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کا حلف اٹھالیا

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے 22ویں منتخب وزیر اعلیٰ محمود خان نے آئندہ 5 سال کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
حلف برداری کی تقریب گورنرہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے محمود خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
حلف برداری کی تقریب میں نومنتخب رکنِ صوبائی اسمبلی، سیاسی رہنما اور سینئر حکومتی عہدیداران بھی شریک تھے۔
دوسری جانب تقریب حلف برداری کے بعد گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

اس حوالے سے ترجمان گورنر ہاؤس نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کا حلف لینے کے بعد گورنر خبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا نے 2016 میں خیبر پختونخوا کے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سربراہی میں متحدہ اپوزیشن نے میاں نثار گل کو وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیراعلٰی کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے محمود خان کو 77 جبکہ اپوزیشن کے امیدوار میاں نثار گل کو 33 ووٹ ملے تھے۔

بعد ازاں اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے محمود خان کی کامیابی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی سے خطاب میں محمود خان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے کے تمام اداروں کو غیر سیاسی بنائیں گے اور پی ٹی آئی اور عمران خان کے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل 15 اگست کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں تحریک اںصف کے مشتاق غنی خیبر پختونخوا اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ان ہی کی جماعت کے محمود جان ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : مشتاق غنی اسپیکر خیبرپختونخوا، آغاسراج درانی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب

خیبرپختونخوا اسمبلی میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں پی ٹی آئی کے مشتاق غنی نے 81 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدِ مقابل عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے لائق خان کو 27 ووٹ ملے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری کی گئی تھی، جس میں پی ٹی آئی کے محمود جان نے 78 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جمشید مہمند کو 30 ووٹ مل سکے تھے۔

یاد رہے کہ 13 اگست کو انتخابات 2018 کے بعد صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کے پہلے اجلاس میں نو منتخب اراکین صوبائی اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔

13 اگست کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اراکین نے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا تھا۔

اگر خیبرپختونخوا اسمبلی میں اکثریت کی بات کی جائے تو کل 98 نشستوں میں سے تحریک انصاف نے 76 نشستیں حاصل کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔

دوسری جانب متحدہ مجلس عمل 13، عوامی نیشنل پارٹی 8، مسلم لیگ (ن) 6، پیپلز پارٹی 5، مسلم لیگ (ق) 1 اور 3 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*