247

عمران خان پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ملک کے 22ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں نئے قائد ایوان چننے کے لیے رائے شماری ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 176 ووٹ لیے جب کہ شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس کے آغاز میں اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق آگاہ کیا اور اراکین کو ہدایت کہ جو اراکین عمران خان کے حق میں ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں تو اسپیکر کے دائیں جانب لابی اے میں جائیں اور جو شہبازشریف کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں وہ اسپیکر کے بائیں جانب لابی بی میں چلے جائیں جس کے بعد اراکین اپنی اپنی لابی میں چلے گئے۔

عمران خان کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، اس موقع پر تحریک انصاف کے اراکین نے بھی وزیراعظم عمران خان کے نعرے لگائے۔

اسپیکر بار بار سب کو خاموش رہنے کی تاکید کرتے رہے لیکن اپوزیشن اراکین نے ایک نہ سنی اور نعرے بازی کرتے رہے، اس موقع پر اسمبلی میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔

پی پی نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا، (ن) لیگ کی منانے کی کوشش ناکام

انتخابی عمل کے موقع پر پیپلزپارٹی کے اراکین نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا اور وہ اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے جب کہ جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی بھی اپنی نشست سے نہیں اٹھے۔

(ن) لیگ کی جانب سے پیپلزپارٹی کو منانے کی ایک اور کوشش کی گئی، شہبازشریف خود چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی نشست پر گئے اور ان سے ملاقات کی، اس موقع پر جاوید مرتضیٰ عباسی سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے تاہم شہبازشریف کی کوشش ناکام ہوئی۔

لیگی اراکین نے بلاول بھٹو زرداری سے شہبازشریف کے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کی جس پر چیئرمین پی پی نے معذرت کرلی۔

وزارت عظمیٰ کے دو امیدوار عمران خان اور شہباز شریف سمیت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شیخ رشید سمیت دیگر اراکین اسمبلی ہال میں موجود ہیں۔

عمران خان کا تالیوں سے استقبال

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان میں پہنچنے پر مہمان گیلری میں موجود افراد نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں جب کہ اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نے نعرے بازی کی۔

وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے امیدوار شہبازشریف بازو پر سیاہ پٹی باندھے ایوان میں پہنچے تو انہوں نے سب سے مصافحہ کرنا شروع کیا، اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور آگے بڑھ کر شہباز شریف سے مصافحہ کیا۔

مہمان گیلری میں توڑ پھوڑ

وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی بڑی تعداد گیلری میں آگئی جس میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد شامل ہے، مہمانوں کی گیلری رش کے باعث بند کردی گئی۔

مہمانوں کی بڑی تعداد پریس گیلری میں گھس گئی جنہیں صحافیوں نے روکنے کی کوشش کی تو دھکم پیل ہوئی، صحافیوں کے ساتھ ہاتھا پائی میں توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔

مرتضیٰ جاوید کا گیلری میں موجود افراد کو باہر نکالنے کا مطالبہ

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور نکتہ اعتراض پر کہا کہ آج پہلے ہی دن ایوان کا تقدس پامال ہوا۔

مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ابھی تو وزیراعظم نے حلف اٹھایا بھی نہیں، لوگ گیلریوں میں کھڑے ہیں انہیں پہلے باہر نکالیں۔

بعد ازاں خورشید شاہ نے بھی نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال گیلریوں میں کبھی نہیں دیکھی۔

سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہا کہ اہم شخصیات یہاں موجود ہیں، خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے، یہاں پہلے بھی حادثہ رونما ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیلریوں میں کھڑے افراد کو نکالا جائے۔

جب میچ فکس ہو تو سینچری کیسے بنائیں؟ شہباز

اس سے قبل شہبازشریف کی اسمبلی آمد کے موقع پر صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ سنچری مکمل کر لیں گے؟ اس پر (ن) لیگ کے صدر نے کہا کہ ‫جب میچ فکس ہو پھر سنچری کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

خورشید شاہ اور ایازصادق کی ایک گاڑی میں آمد

خورشید شاہ اور ایاز صادق ایک ہی گاڑی میں پارلیمنٹ ہاوس پہنچے جس پر صحافی نے سوال کیا کہ آج (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی ایک ہی گاڑی میں ہیں، اس پر ایاز صادق نے کہا کہ شاہ صاحب سے 2002 کا رشتہ ہے، نا چھٹنے والا رشتہ ہے، سیاست اپنی جگہ اور یہ رشتے اپنی جگہ ہیں۔

عمران خان کی مختصر گفتگو

عمران خان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر صحافیوں نے ان سے سوالات کیے اور ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا، میچ جاری ہے، خواب ابھی پورا نہیں ہوا، ایک مرحلہ پورا ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے سوال پر چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔

انتخاب میں حصہ نہ لینا جمہوری حق ہے: بلاول

پیپلزپارٹی نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا اور اس کے اراکین اپنی نشستوں پر ہی براجمان رہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں پہنچے تو میڈیا نمائندوں کے سوال و کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی اور انتخابی عمل میں حصہ نہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے۔

سابق صدر مملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کے الیکشن سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

2013 کا انتخاب

قائد ایوان کے 2013 کے انتخابات کو دیکھا جائے تو اُس وقت میاں نواز شریف نے دو تہائی سے زائد یعنی 244 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ مخدوم امین فہیم نے 42 ووٹ اور جاوید ہاشمی نے 31 ووٹ حاصل کیے تھے۔

نوازشریف کی نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی 339 ووٹوں میں سے 221 ووٹ حاصل کر کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں