بنیادی صفحہ / اہم خبریں / پاکستان میں ناقص پٹرول کی فروخت اور نقصانات

پاکستان میں ناقص پٹرول کی فروخت اور نقصانات

پاکستان میں آئے دنوں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ 2018 کے آغاز سے ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنوری میں پٹرول کی قیمت 77.47 روپے تھے جس میں 4.06 روپے کا اضافہ کر دیا گیااوریوں پٹرول کی قیمت جنوری کے مہینے میں 81.53روپے فی لیٹر ہوگئی۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیااوراسی طرح فروری میں 2.98 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا،اسی طرح مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس سے اپریل کے مہینے میں پٹرول کی قیمت84.51 روپے فی لیٹر ہے یوں ہر ماہ پٹرول کے اضافے سے ملک میں مہنگائی کا ایک سیلاب آ جاتا ہے۔

ایک ماہ بعد ماہ رمضان بھی آنے والا ہے اور اگر اسی طرح پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا توماہ رمضان تک ضرورت زندگی کی اشیاء میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ایک عام شہری کی قوت خرید سے باہر ہو گا۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی کھپت کروڑوں لیٹرز میں ہے۔پاکستان اپنے استعمال کے لئے صرف 30% پٹرول خود سے پیدا کرتا ہے باقی 70%پٹرول دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پی ایس اوکاادارہ 60% پٹرول دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ پٹرول کی اتنی زیادہ مانگ ہے کہ ملاوٹ کرنے والے اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ ناقص پٹرول فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی گاڑیوں کے انجن کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی ناقص پٹرول جہاں گاڑیوں کے انجن کو تباہ کرتا ہے یہی ناقص پٹرول شہر میں آلودگی پھیلانے کا بھی سبب بنتا ہے۔

اب یہاں عوام کاکیا قصور ہے،ایک تو وہ مہنگا پٹرول خریدیں جو ان کی گاڑی اور جیب پر بھی بھاری پڑتا ہے۔ریاست کا فرض ہے کہ وہ عوام کو خالص اشیاء مہیا کرے۔اسی طرح پٹرول کی ملاوٹ کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے کیونکہ عوام کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس سے وہ پٹرول کے خالص ہونے یا ناقص ہونے کو جانچ سکیں۔ ایک اور بڑا ظلم یہ کیا جاتا ہے کہ پٹرول کم یا بالکل نہیں ڈالا جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ آج سے کچھ سال پہلے میری موٹر سائیکل میں ایک دفعہ پٹرول ختم ہو گیا تو میں نے مال روڈ پر ایک پٹرول پمپ ہے جس سے میں نے پٹرول ڈلوایا لیکن میری بائیک پھر بھی اسٹارٹ نہ ہوئی تو میں نے ٹنکی کو چیک کیا تو ٹنکی خالی تھی۔ میں واپس اس کے پاس آیا تو اس نے کہاکہ میں نے ڈال دیا تھا جبکہ ایک قطرہ پٹرول نہیں پڑا تھا۔ بہر حال کافی بحث کے بعد اس نے پٹرول ڈالا۔ آپ جب بھی پٹرول ڈلوائیں تو میٹر اور پمپ سے نکلتا پٹرول ضرور چیک کریں۔ اسے کہیں کہ پمپ کو اٹھا کر رکھے تا کہ پمپ سے پٹرول نکلتا نظر آئے لیکن بد قسمتی سے کئی پٹرول پمپ والوں نے فکس کر رکھا ہوتا ہے کہ سو روپے میں کتنا پٹرول ڈالنا ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہوتا جو یقیناً کم ہی ہوتا ہے۔

ہمیں بحیثیت مسلمان شرم آنی چاہیئے کہ آج ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ کیا کیا ظلم کر رہے ہیں۔ ہمیں خدا سے ڈرنا چاہیئے، ہمیں اپنے خدا کو اس چور بازاری اور ملاوٹ کا حساب دینا ہو گا۔ آج ہم پیسے کے نشہ میں دھت ہر وہ ناجائز کام کرتے چلے جارہے ہیں جس کی اسلام میں ممانعت ہے۔اس کے علاوہ ابھی بھی شہر بھر میں کھلےعام دکانوں پر پٹرول کی فروخت جاری ہے حالانکہ حکومت کی جانب سے پابندی ہے لیکن اس کے باوجود پٹرول چھوٹی چھوٹی دکانوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ یقیناًکوئی نہ کوئی ان کی پشت پناہی کر رہا ہے ورنہ یوں کھلے عام پٹرول کیسے فروخت ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں سب سے کم رون کا پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔ رون سے مراد (ریسرچ آکٹین نمبر) ہے پاکستان میں فروخت ہونے والا پٹرول 87 رون ہے جو دیگر ممالک سے کم ہے کیونکہ بھارت میں فروخت ہونے والا پٹرول 91 رون ہے جبکہ برطانیہ میں فروخت کے لئے پیش کیا جانے والا پٹرول 95 رون ہے۔ اسی طرح ترکی میں بھی 95 رون پٹرول فروخت ہو رہا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس کا معیار انتہائی کم ہے۔ یقیناً حکومت وقت کو اس جانب توجہ دینی چاہیئے تا کہ عام شہری کو خالص پٹرول حاصل ہو اور اس کی گاڑی بھی محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ ملاوٹ شدہ پٹرول جہاں فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے وہاں اس سے کئی بیماریاں جن میں دمہ ،گلے ،آنتوں اور پھیپھڑوں کے امراض شامل ہیں جو ہر سال ہزاروں ہلاکتوں کا سبب ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*