بنیادی صفحہ / اہم خبریں / جنوبی پنجاب کا صوبہ، یہ محاذ الیکشن تک یا صوبے کے حصول تک رہے گا ؟

جنوبی پنجاب کا صوبہ، یہ محاذ الیکشن تک یا صوبے کے حصول تک رہے گا ؟

سرائیکی وسیب کے لیے یہاں کے سیاست دانوں کا صوبہ بنانے کا محاذ شروع کرنا اچھی اور خوش آئیندبات ہے ، لیکن اس محاذ کی پہلی کانفرنس میں صوبے کی تحریک چلانے والے وہ لوگ بھی شامل ہوتے جو اپنی پوری زندگی اس تحریک کے نام کر چکے ہیں تو زیادہ اچھا ہوتا۔ پریس کانفرنس میں ان کو ساتھ بیٹھانا تو دور کی بات پیچھے لگے پینافلکس پر بھی ان میں سے کسی ہیرو کی تصویر شامل نہ کی گئی۔ سرائیکی وسیب کے یہ ہیروز 1970 سے سرائیکی صوبے کا محاذ چلا رہے ہیں، ان ہیروز نے مسلسل اس محاذ کو اپنی شاعری اور تحریروں میں ہمیشہ زندہ رکھا اور خطے کے مسائل و محرومیوں کو بہتر انداز میں اجاگر کرتے رہے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے انہی سیاست دانوں نے صوبے کے مطالبے کو موثر انداز میں نہ تو اسمبلی فلور پر اٹھایا اور نہ ہی کسی اور فورم پر ، اگر کبھی الگ صوبے کا نعرہ لگا بھی ہے تو صرف الیکشن سے قبل جیسے کہ اب یہ محاذ شروع کیا گیا ہے جس کی دیکھا دیکھی میں اور جماعتیں بھی شامل ہورہی ہیں۔
اسی خطے سے تعلق رکھنے ایک سابق وفاقی وزیر دفاع نے ایک مرتبہ سرائیکی صوبہ کے لیے 14 اگست 2009 کی ڈیڈ لائین دی تھی کہ اگر سرائیکی صوبہ نہ بنا تو وہ وزارت چھوڑ دیں گے ۔ لیکن تاریخ گزر گئی اور وہ اپنی وزارت پر ویسے ہی براجمان رہے ، ایسے ہی ملتان بزرگ سیاست دان جو اپنے آپ کوباغی کہتے ہیں ، نے بھی کہا تھا کہ وہ سرائیکی صوبہ کے لیے تامرگ بھوک ہڑتال کرنا پڑی تو کریں گے۔ تب وہ ن لیگ کا حصہ تھے۔ ایسے ہی وسیب کے دوسرے سیاست دانوں نے بیانات دیے، پر ان کو پایا تکمیل تک نہ پہچایا۔ آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں سرائیکی بنک بنانے کا اعلان کیا لیکن اس کی ایک اینٹ بھی نہ رکھی گئی۔ اب موجودہ محاذ چلانے والوں کو دیکھا جائے تو یہ حضرات بھی مسلسل 70 سال سے کسی نہ کسی طرح اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں اور یہ لوگ بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے کے باوجود اس خطے کے لیے کوئی خاطر خواہ ترقیاتی منصوبے نہ لا سکے۔
جنوبی پنجاب کا یہ خطہ جس کی محرومیوں کی بات یہ لوگ اب کر رہے ہیں۔ جب ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے کاشت کار 370 کلومیٹر پیدل مارچ کر لاہور سے پینے کا پانی مانگنے گئے تھے ، یہ لوگ تب بھی خاموش رہے ۔جب راجن پور میں انٹرنیشنل طرز کی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے باوجود تعمیر نہ ہو سکی اورجسے اسلام آباد چپکے سے شفٹ کر دیا گیا، تب بھی خاموش رہے ۔اب پانچ سال اس جمہوری حکومت کے اور پانچ سال سابقہ جمہوری حکومت اور ایک دہائی پرویز مشرف کے اقتدار کی لگا لیں، ان سب ادوار میں اسی خطے کے سیاست دان اعلٰی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود کچھ نہ کر سکے۔ جب سانحہ احمد پور شرقیہ رونما ہوا تو جنوبی پنجاب میں صحت و دیگر اور سہولیات کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی۔ خطے کی محرومیوں کا اعتراف حکمراں جماعت نے بھی خود کیا تھا کہ اس خطے کے لیے ہم کچھ نہیں کر سکے۔ تب محرومیوں کی یہ بحث اس وقت عروج پر تھی، سارا میڈیا اس پر خطے کی محرومیوں کی بات کر رہا تھا، اور تب یہاں کے سیاست دانوں نے محرومیوں اور الگ صوبے کی کیوں بات نہیں کی ، اس وقت بات کرنے کا موقع بھی تھا اور اسمبلیوں کی مدت بھی کافی رہتی تھی۔ تب بہت کچھ ہونا ممکن تھا۔ نااہلی کے فیصلے کے بعد پارٹی صدرات کے لیے بل کی منظوری پر ووٹنگ دوسرا موقع تھا، تب بھی یہ محاذ کھڑا کیا جاتا تو اب تک بہت کچھ ہو چکا ہوتا۔
الگ صوبہ ایک دن میں نہیں بن جائے گا، اس پر بہت وقت لگے گا ، پہلے تو پنجاب کو دو انتظامی یونٹ میں تقسیم ہونا ہے جس کے لیے سول سیکرٹریٹ کی تعمیر اور دیگر امور سرانجام دینے باقی ہیں ، یہ تو اتنا نہ کر سکے کہ موجودہ اور گزشتہ دونوں جمہوری حکومتوں میں انتظامی یونٹ کے سیکرٹریٹ کا بجٹ بھی منظور کروا لیتے۔ جس کا ہر سال وعدہ تو کیا جاتا ہے پر عملی طور پر اسے پایا تکمیل تک نہیں پہنچایا جاتا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*