بنیادی صفحہ / اہم خبریں / تاریخ کے وہ نمایاں ترین مسلمان حکمران جن کی مائیں ہندو النسل تھیں

تاریخ کے وہ نمایاں ترین مسلمان حکمران جن کی مائیں ہندو النسل تھیں

ہندوستان پر تین سو اکتیس سال تک حکمرانی کرنے والے مغلیہ سلاطین کی رگوں میں خالص تیموری خون بھی تھا جس نے کابل غزنی سے نکل کر دلی پر راج کیا ۔آج کے چار بڑے ملکوں بھارت، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سمیت دیگر علاقے کبھی مغلوں کی راجدھانی میں شمار ہوتے تھے ۔سلطنت پھیلنے سے خاندان مغلیہ کا خون بھی تقسیم ہوتا چلا گیا۔خاندان مغلیہ کے جن سترہ شہنشاہوں نے تین سو اکتیس سال تک حکمرانی کی ان میں سے گیارہ شہنشاہوں کی ماوں کا تعلق ہندو مت سے تھا ۔
یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
مغلیہ سلطنت کا بانی شہنشاہ ظہیر الدین بابر خالص النسل تیموری چغتائی تھالیکن جوں جوں سلطنت وسیع ہوتی چلی گئی شہنشاہ بابرکی نسل بھی مقامی نسلوں کے خون سے پروان چڑھنے لگی۔انہوں نے ترک النسل خواتین کے علاوہ ایرانی اور ہندو عورتوں سے بھی بیاہ رچائے اور ان سے جو شہزادے پیدا ہوئے انہوں نے مغلیہ خاندان میں وراثت کا فتنہ ایسا بویا کہ یہ بالاخر مغل خاندان کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
شہنشاہ ظہر الدین بابر کو مغل ماں نے جنم دیا تو اس کے جانشین شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی ماں بھی ترک النسل مسلمان تھی۔جبکہ اس نے ایک ایرانی مسلمان خاتون سے شادی کی تو جلال الدین اکبر نے جنم لیا۔مغل شہنشاہیت کی رگوں میں ہندو خواتین کا خون جلال الدین اکبر نے شامل کیاتھا جس نے دین اکبری کے نام سے لادینیت کی بنیاد رکھی اور اسلام کے حقیقی تشخص کو ملیامیٹ کردیا ۔اس نے مسلمانوں کو کلمہ پڑھائے بغیر ہندو عورتوں سے شادیوں کی عام اجازت دے دی اور دین اکبری کے تحت جن مکروہ مذہبی عقائید کا فتنہ بویا اس نے مغلوں کو لادینیت کی راہ پر لگا دیا۔
جلال الدین اکبر کا بیٹا شہنشاہ جہانگیرہندو راجپوت جودھا بائی سے پیدا ہوا تھا ،روایت ہے کہ شہنشاہ جہانگیر نے بھی چار سے زائد ہندو خواتین سے شادیاں کی تھیں،اسکی ہندو رانی مناوتی بائی سے شہنشاہ شاہجہاں پیدا ہواتھا ۔شاہجہاں کے بعد اورنگ زیب تخت وتاج کا وارث بنا تو اس نے بھی ترک النسل اور ہندو النسل عورتوں سے شادیاں کیں ۔اسکے وارث بہادر شاہ اوّل کی ماں بھی ہندوالنسل تھی ۔اورنگ زیب کے بعد خاندان مغلیہ کے زیادہ تر شہنشاہوں نے مقامی ہندو رانیوں سے بیاہ کئے جن سے انکے وارث پیدا ہوئے۔بہادر شاہ ظفر کی والدہ بھی ہندو النسل تھی ۔
مورخین کے مطابق ہندو النسل اور ترک النسل چغتائی خون سے جنم لینے والے شہزادوں کے مزاج میں بہت فرق تھا ۔خاندان مغلیہ میں جب ترک النسل خواتین سے شادیاں کم ہوگئیں اور تخت کے وارثوں کی ماوں کا تعلق ہندومت سے جڑنے لگا تو ریشہ دوانیوں کے باعث اقتدار پر انکی گرفت ہوتی چلی گئی۔اگرچہ ہندوالنسل رانیوں نے اسلام بھی قبول کیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر نے اپنے ہندوانہ رسوم و رواج کو محلات میں زندہ رکھا جس سے درباروں اور محلات میں بیک وقت رام اور رحیم کے ماننے والوں کااثر و نفوذ قائم رہتا تھا ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*