615

شامی علاقے غوطہ میں قتل عام پر شوبز ستارے بھی بول پڑے

ملک شام کے علاقے غوطہ کے مشرقی علاقے میں جاری بمباری اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر پاکستان و بھارت کے شوبز ستارے بھی بول پڑے۔

اسٹارز سوشل میڈیا پر مطالبہ کر رہے ہیں کہ شام میں معصوم شہریوں کے خلاف قتل و غارت گری بند کی جائے۔

واضح رہے کہ شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبہ غوطہ میں گذشتہ ایک ہفتے سے شامی حکومت کی جانب سے شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں معصوم بچوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔

اس کارروائی میں شامی حکومت کو روس کی حمایت بھی حاصل ہے، دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوٹن نے آج حکم جاری کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غوطہ میں روزانہ پانچ گھٹنے ( صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک) کا وقفہ لایا جائے۔

شام کے معصوم شہریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف متعدد نامور اسٹارز نے سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا، جن میں ماہرہ خان، ماورہ حسین، علی ظفر، ایشا گپتا اور دیگر شامل ہیں۔

ماہرہ خان:

پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتیں، انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بربریت کو بے حسی قرار دیا۔
ماہرہ خان:

پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتیں، انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بربریت کو بے حسی قرار دیا۔
علی ظفر:

پاکستان سمیت پوری دنیا میں اپنا نام روشن کرنے والے گلوکار و اداکار علی ظفر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’انسانیت کو جاگنے کی ضرورت ہے‘۔
شاہد آفریدی:

معروف کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی اپنی ایک ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا کہ شام کے علاقے غوطہ میں ہونے والی قتل و غارت گری کو فوری طور پر روکا جائے اور معصوم بچوں اور لوگوں کی جان بچائی جائے۔
نواز الدین صدیقی

بالی وڈ اداکار نواز الدین صدیقی نے شام کے شہر غوطہ میں جاری وحشیانہ بمباری کی مذمت کی اور ٹوئٹر پر ملبے میں دبے شامی بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مشہور ادیب جان اسٹین بیک کا قول لکھا کہ ساری جنگیں اس چیز کی نشانی ہے کہ انسانوں نے جانوروں کی طرح سوچنا شروع کردیا ہے۔
یشا گپتا:

بھارتی اداکارہ ایشا گپتا نے بھی غوطہ کے علاقے میں ہونے والی بربریت کی شدید مذمت کی اور ایک ٹوئٹ میں اسے سیاہ دور قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’یہ وہ دور ہے جہاں انسانیت کے لیے بھی سرحد دیکھی جاتی ہے، جہاں بچوں کے لیے بھی مذہب دیکھا جاتا ہے اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں