بنیادی صفحہ / اہم خبریں / انگلینڈ میں’انتہا پسند تعلیمی نظام کو خراب کر رہے ہیں‘

انگلینڈ میں’انتہا پسند تعلیمی نظام کو خراب کر رہے ہیں‘

انگلینڈ کی چیف سکول انسپیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں مذہبی انتہا پسند تعلیمی اداروں کو استعمال کر کے نہ صرف بچوں کو تنگ نظر بنا رہے ہیں بلکہ تعلیم کو خراب کر رہے ہیں۔

چیف سکول انسپیکٹر امانڈا سپائلمین نے چرچ آف انگلینڈ کے زیر اہتمام ہونے والی ایک کانفرنس میں کہا کہ کچھ کمیونٹی رہنما سمجھتے ہیں کہ وہ سکولوں کو استعمال کر کے کچے ذہن کے بچوں کو اپنے شدت پسندانہ نظریات کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا آفسٹیڈ انسپیکٹروں کو آئے روز ایسے شدت پسندوں سے واسطہ پڑتا ہے۔

چیف انسپیکٹر نے سکولوں کے سربراہوں سے کہا کہ وہ ایسی عناصر کا سامنا کریں جو شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔

چیف سکول انسپیکٹر سکولوں کے سربراہوں کو کہا کہ وہ لوگوں کی ناراضگی کے ڈر سے ‘کمزور لبرل ازم’ کی بجائے ‘توانا لبرل ازم’ کا مظاہرہ کریں۔

چیف سکول انسپکٹر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘کمزور لبرل ازم’ کے ذریعے ایسے نظریات کے ساتھ نمٹا جا سکتا جو لوگوں کے ذہنوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔

‘اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مشکل فیصلے اور سخت مکالمے کرنے پڑیں گے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ آپ کو یہ تصور نہیں کرنا کہ ایک مخصوص طبقےسے تعلق رکھنے والی قدامت پسند آوازیں کسی نظریے کی ترجمانی کرتی ہیں۔‘

انگلینڈ کے سکول انسپیکٹروں کو سکولوں میں آئے روز ایسے شدت پسند نظریات کے حامل عناصر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے مقصد کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

استاد کو ’جہاد‘ کے لیے شام جانے کا منصوبہ بنانے پر سزا

برطانیہ میں طلبہ کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے اساتذہ کی تربیت

‘وہ مذہب کی آڑ میں قانونی یا غیر قانونی طریقوں سے تعلیمی اداروں کو بچوں کے ذہنوں کو تنگ اور انھیں الگ تھلگ کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔’

چیف سکول انسپیکٹر کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی میں مذہبی آزادی بہت اہم ہے ‘لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم برطانوی اقدار کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ‘

چیف انسپیکٹر ماضی میں ملک میں مذہبی سکولوں میں جاری رائج بعض ضابطوں کو تنقید نشانہ بنا چکی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چیف سکول انسپیکٹر مشرقی لندن کے سینٹ سٹیفن پرائمری سکول کی ہیڈ ٹیچر نینا لعل کی حمایت کریں گے جنھوں نے اپنے سکول میں آٹھ سالہ بچی کو کلاس روم میں حجاب پہننے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

نینا لعل نے جب پرائمری سکول کے بچوں کو دوران سکول روزہ رکھنے سے باز رکھنے کی کوشش کی تو مقامی آبادی میں سے بعض والدین نے ان کے خلاف آواز بلند کی لیکن بعض نے ان کے اقدامات کی حمایت کی۔

چیف انسپیکٹر سکول کہیں گی کہ سکول کے سربراہوں کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ سکول یونیفارم سے متعلق ایسی پالیسیاں بنا سکیں جو ان کے خیال میں بہتر ہیں اور اس سے آہنگی کو فروغ مل سکے۔

چیف سکول انسپیکٹر مس سپائلمین نے کہا کہ’یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ کمیونٹی کے کچھ عناصر کی جانب سے جاری مہم میں عمدہ سکولوں کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’

‘میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ آفسٹیڈ ہمیشہ ایسے سخت فیصلوں کی حمایت کرے گی جو طالبعلم کے مفاد میں ہوں۔’

آفسٹیڈ نے کہا کہ چیف انسپیکٹر سپائلمین ہر قسم کی شدت پسندی کو نشانہ بنا رہی ہیں نہ کہ مذہبِ اسلام کو۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*