بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ایک دو واقعات پر پولیس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے،

ایک دو واقعات پر پولیس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے،

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کی پولیس پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ایک واقعات پر پولیس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی پنجاب پولیس سے بہتر ہے اور صوبے کی فرانزک لیبارٹری 15 سے 20 روز میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے زیادتی اور قتل کے واقعات پر کام شروع کر دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فرانزک لیبارٹری کو فعال کرنے کا کام کسی سیاسی دباؤ کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہیں تھا۔
پرویز خٹک نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے، صوبائی پولیس اپنے معاملات میں فوج کی طرح بالکل آزاد ادارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی معاملہ صوبائی پولیس کے پاس ہو تو آئی جی پولیس سرکاری حکام سے مشاورت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے کا بھائی سلاخوں کے پیچھے ہے لیکن میں اس معاملے پر کچھ نہیں بول سکتا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت پولیس پر دباؤ ڈالنے پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ اس طرح سے اچھی کارکردگی حاصل کا حصول ممکن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو حالیہ دنوں میں مردان، کوہاٹ اور ایبٹ آباد سمیت صوبے میں پیش آنے والے متعدد جرائم کے واقعات کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مردان میں تین سالہ بچی عاصمہ اور کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بیایا جا رہا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*