بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ’حسینہ‘ سمگلر پاکستان میں دراصل کیا کرنے آئی تھی؟

’حسینہ‘ سمگلر پاکستان میں دراصل کیا کرنے آئی تھی؟

چند روز قبل لاہور ائیرپورٹ سے 9 کلو ہیروئن سمگل کرنے کی کوشش میں گرفتار ہونے والی چیک ری پبلک کی خوبرو لڑکی تریزا السکوا کی دوست نے انکشاف کیا ہے کہ وہ صرف اور صرف فوٹوگرافی اور ماڈلنگ کے مقصد سے پاکستان گئی تھی۔
تریزا سے پہلے پاکستان آنے والی اس کی ایک دوست سیمونا نے انکشاف کیا کہ تریزا السکوا درحقیقت ماڈلنگ کی غرض سے پاکستان آئی تھی اور پاکستان میں قیام کے دوران وہ طارق نامی شخص کیساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔ لیکن اس سارے معاملے میں کچھ گڑبڑ ضرور تھی جس کے بارے میں سیمونا نے پراگ کے ایک مقامی اخبار ”بلیسک“ سے گفتگو کے دوران بتایا۔ سیمونا نے کہا کہ تریزا کو ماڈلنگ کیلئے صرف ایک فوٹو شوٹ کے 2 لاکھ چیک ری پبلک کرونا ملے جن کی پاکستانی روپے میں مالیت 10 لاکھ بنتی ہے۔
سیمونا نے مزید کہا کہ تریزا طارق نامی شخص کیساتھ براہ راست رابطے میں تھی اور میرے سامنے اس کا ذکر کرتے ہوئے تریزا کا کہنا تھا کہ ”میرا باس ہمارے لئے فوٹوشوٹ کا بندوبست کرے گا۔“ سیمونا نے مزید بتایا کہ تریزا کے پاکستان میں آنے سے 21 روز پہلے وہ بھی پاکستان میں ہی تھی لیکن اس کا مقصد صرف ماڈلنگ تھا۔
سیمونا نے کہا کہ ”میں بالکل ٹھیک ٹھاک واپس پہنچ گئی اور جو کچھ بھی ہوا ہے اس پر میں ششدر ہوں۔ ہم نے پورے یورپ میں ایک دوسرے کیساتھ تصاویر بنوائیں، جیسا کہ میں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا، اس کی مجھے بالکل بھی توقع نہ تھی۔ میں اس سے پیار کرتی تھی، لیکن اب میری رائے مختلف ہے۔“
سیمونا نے یہ انکشافات تو کر دئیے ہیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ بھی تریزا کے پاکستان آنے کے وقت یہاں تھی یا اس کے آنے سے پہلے ہی یہاں سے جا چکی تھی۔ اس سے متعلق سوال پر سیمونا نے صرف اتنا ہی کہا کہ ”میں اپنے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔“ تریزا کو 12 جنوری کے روز خصوصی عدالت کی جانب سے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*