بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ’میں ہوائی جہاز میں بیٹھی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت!!

’میں ہوائی جہاز میں بیٹھی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت!!

ہم خودکو مسلم اور اپنے ممالک کو اسلامی قرار دیتے ہیں جہاں ہمارے بقول مشرقی روایات بہت مضبوط ہیں، لیکن اگر ہمارے انداز و اطور دیکھ کر اہل مغرب بھی گھبرانے لگیں تو یقینا سوچنے کا مقام ہے۔ ایک ایسے ہی واقعے نے برادر اسلامی ملک ملائشیا میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ ملائشیا کی ایک ائرلائن کی ائیرہوسٹسوں کے نیم برہنہ جسم دیکھ کر نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی حیران رہ گئیں۔ اپنے کھلے خط میں اس خاتون کا کہنا ہے کہ یہ نیم برہنگی ہے اور حتیٰ کہ ائرہوسٹسوں کے زیر جامے تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ سب دیکھ کر بے حد افسوس ہوا، بلکہ کراہت محسوس ہوئی اور وہ سمجھتی ہیں کہ ان ائیرہوسٹسوں کا یونیفارم ملائیشیا کے تاثر کو برباد کررہا ہے۔
میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر جون رابرٹسن نامی یہ خاتون، جن کا تعلق نیوزی لینڈ کے شہر ولنگٹن سے ہے، اس صورتحال پر ایسی برہم ہوئیں کہ ملائیشین سینیٹر حنفی مامت کے نام ایک کھلا خط لکھ دیا۔ اس خط میں ان کا کہنا ہے”یہ خواتین ( ائیر ایشیاءکی ائیرہوسٹسیں)اتنا مختصر لباس پہنتی ہیں کہ جسے دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوئی اور میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی اس کو سراہتا ہوگا۔ جب میں نے کوالا لمپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک ائیرہوسٹس کو جھکے ہوئے دیکھا تو اس کا زیر جامہ تک نظر آرہا تھا۔ نفرت انگیز! میں نے اس بات پر اعتراض کیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی جیکٹ کو بند کرے۔ ہم ملائیشیاءکے بارے میں اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ آپ کی خواتین جسم فروش عورتوں جیسا لباس نہیں پہنتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ائیرایشیاءکی ائیرہوسٹسوں کا لباس آپ کی شہرت کو نقصان پہنچارہا ہے۔ ان کے برعکس مردوں کا یونیفارم بہت باعزت ہے۔“


رپورٹ کے مطابق سینیٹر حنفی مامت نے اس خط کا نوٹس لے لیا ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ائیرایشیاءکی ائیرہوسٹسوں کو ایسا یونیفارم پہننا چاہیے جو ملائشیاءکی بطور مسلمان ملک ترجمانی کرے اور مشرقی روایات کے مطابق ہو۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*