بنیادی صفحہ / اہم خبریں / سہاگ رات پر پاکستانی دولہا کی ایسی شرمناک ترین حرکت کے دلہن کی موت ہو گئی

سہاگ رات پر پاکستانی دولہا کی ایسی شرمناک ترین حرکت کے دلہن کی موت ہو گئی

قصور کی بے قصور زینب کے قتل کا واقعہ منظرعام پر آیا تو احتجاج اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبے کیساتھ ساتھ بہت سی معروف شخصیات نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ہراسگی کے واقعات بھی بتانے شروع کر دئیے کہ کیسے انہیں چھوٹی سی عمر میں ہراساں کیا گیا۔
ٹوئٹر صارف اور ڈاکٹر ”فاطمہ شیریں“ نے بھی ایک واقعہ صارفین کو سنانے کا فیصلہ کیا جو نئی نویلی دلہن کیساتھ پیش آیا تھا اور سہاگ رات کو ہی اس کی موت ہو گئی۔ دلہن کو ’اندرونی‘ چوٹیں آئی تھیں اور زیادہ خون بہہ جانے کلی وجہ سے اس کی موت ہو گئی اور جب اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو ایسی شرمناک حقیقت سامنے آئی جس کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔
فاطمہ شیریں نے ٹوئٹر پر تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ” میری ایک مریضہ کی زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت ہو گئی اور بظاہر اسے اندرونی چوٹیں آئیں جو گہری تھیں۔ ہم نے اس کے والد کو پوسٹ مارٹم کیلئے رضامند کیا اور جب رپورٹ آئی تو انکشاف ہوا کہ اس کا شوہر نفسیاتی مریض تھا جو شادی کی رات لوہے کے راڈ استعمال کرتا رہا۔“
فاطمہ شیریں نے انتہائی دلدوز واقعہ سنانے کے بعد وہی سوال کیا جو معصوم زینب کے قتل کے بعد سب ہی کر رہے ہیں۔ فاطمہ نے لکھا ”وہ لڑکی اپنے ولیمہ کے روز موت کے منہ میں چلی گئی، اور ہم اپنے بچوں کو جنسی خطرات سے نمٹنے کی تعلیم نہیں دے سکتے؟ ہمارا معاشرہ مرنے کا حق دار ہے۔“


فاطمہ نے یہ واقعہ سنایا تو ٹوئٹر صارفین کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک صارف مہروز ایوب نے پوچھا ”اور پھر کیا ہوا؟ کیا پولیس کو شکایت درج کروائی گئی؟“
فاطمہ نے جواب دیا ”ہاں! لیکن ہم عدالتی کارروائی کی پیروی نہیں کرتے۔ معاف ہی کر دیا ہو گا۔ لڑکی کے والد پہلے ہی ملزم کو معاف کرنے کا سوچ رہے تھے کیونکہ وہ آپس میں رشتہ دار تھے“
ٹوئٹر صارفین نے اس واقعے پر شدید صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا۔ ’حد ہے بھئی‘ نامی ایک صارف نے لکھا ”کیا؟ اصل میں۔۔۔ او ہ خدا! تمہاری ٹویٹس نے مجھے گنگ کر دیا ہے“
روپیش یادیو نے لکھا ”پہلے انسانیت سکھانے کا وقت ہے، کیونکہ یہ کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں بلکہ غیر انسانی حرکت تھی۔ امید کرتا ہوں کہ وہ یا جیل میں ہے یا پھانسی چڑھ گیا ہے“
ڈاکٹر منیشا سنگھ نے بھی ایسا ہی ایک واقعہ سنایا کہ ”میں نے اس طرح کے 2 واقعات دیکھے اور دونوں ہی نئی نویلی دلہنوں کے ساتھ پیش آئے لیکن شکر ہے کہ دونوں کو بچا لیا گیا۔۔۔ بڑی احتیاط سے علاج کرنا پڑا اور کچھ خون کی بوتلیں بھی لگیں!!! ناقص فہم اور ظالمانہ قوت کا استعمال کسی صورت بھی قابل قبول نہیں“


نجم فاروقی نے بھی واقعہ سناتے ہوئے لکھا ”اگر مجھے یاد ہو تو کچھ سال پہلے ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب ایک لڑکے نے ’واٹر ہیٹر‘ کا استعمال کیا لیکن لڑکی کو بچا لیا گیا اور تشویشناک حد تک سرجری کرنا پڑی۔ مذکورہ لڑکے کیخلاف مقدمہ چلایا گیا تھا“
تھکانا نامی صارف نے سِکسر کو جواب دیتے ہوئے لکھا ”مجھے نہیں لگتا ہے کہ خاتون نے اجازت دی ہو گی، اور یہی تو اصل مسئلہ ہے“

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*