بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ’میں 6سال کی تھی اور میرے ساتھ بھی زینب جیسا سلوک کیا گیا،

’میں 6سال کی تھی اور میرے ساتھ بھی زینب جیسا سلوک کیا گیا،

ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز سانحے نے سارے ملک کو رلا دیا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں نجانے کتنی زینب ہیں جن پر ہونے والے ظلم کی کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ اس المناک صورتحال کی ایک جھلک ہمیں اس دردناک داستان میں دکھائی دے سکتی ہے جو ایک نوجوان لڑکی نے ویب سائٹ ’مینگوباز‘ پر کچھ یوں بیان کی ہے:

مجھے یاد نہیں کہ میرے ساتھ یہ پہلی بار کب ہوا لیکن جو بھی ہوا مجھے سب یاد ہے۔ میری ٹیچرز ہر بار میٹنگ کے موقع پر میرے والدین کو بتاتی تھیں کہ میں بہت بولتی ہوں، لیکن مجھے وہ شخص یاد ہے جس کی شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر میرے جسم پر خوف طاری ہوجاتا تھا اور مجھے چپ لگ جاتی تھی۔ میں 6 سال کی تھی جب ایک روز وہ ہمارے گھر آیا۔ میرے والدین سوئے ہوئے تھے اور اس نے مجھے کہا کہ میں ان کو مت جگاﺅں۔ میں نے اس سے کہا کہ انکل جب میرے امی ابو جاگ جائیں تو آپ تب آئیں، اور اس نے کہا ”ٹھیک ہے، لیکن پہلے میں گڑیا کو گلے لگاﺅں گا۔“ پھر میرے ناچاہتے ہوئے بھی اس نے اپنے بازو میرے جسم کے گرد لپیٹ لئے۔ اور مجھے یاد ہے کہ جب میں 8سال کی تھی تو ایک روز چھٹی کے بعد سکول بس میں جاکر بیٹھی تو میرے ساتھ ہی بڑی بڑی مونچھوں والا کنڈکٹر بھی آکر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور اپنا ہاتھ میرے جسم پر پھیرنا شروع کردیا۔ میں اس بات سے سخت خوفزدہ ہوئی لیکن کسی کو بتا نہیں پائی کہ اس نے مجھے کہاں چھوا تھا۔

جب میں 13 سال کی تھی تو ایک آنٹی کے ہاں رہنے کے لئے گئی ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے نے مجھے اپنے سر کا مساج کرنے کو کہا اور پھر مجھے غلط انداز میں مجھے چھونا شروع کردیا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر میں نے کسی کو کچھ بتایا تو اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ اور جب میں 20 سال کی تھی تو محبت کے نام پر مجھے پامال کیا گیا۔ مجھے صرف خون اور آنسو یاد ہیں۔ اس نے میری جانب ایک تولیہ پھینکتے ہوئے کہا کہ اگر تمہیں اس سب سے اتنی نفرت ہے تو تم میرے پاس آئی ہی کیوں تھیں۔
مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ بے شمار لوگ میرے جسم کو اپنی ملکیت سمجھ کر فتح کرنے کی کوشش کریں گے۔ کسی نے معصوم زینب کو بھی یہ نہیں بتایا تھا۔ میری اور بے شمار دیگر لڑکیوں کی طرح زینب بھی ایک بچی تھی۔ سوچتی ہوں کہ کتنی اور زینب اس ظلم کا نشانہ بنیں گی تو یہ سلسلہ تھمے گا؟

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*