بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ٹوائلٹ میں یہ حرکت کبھی نہ کریں

ٹوائلٹ میں یہ حرکت کبھی نہ کریں

کیا آپ جانتے ہیں اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ٹوائلٹ پیپر کو بھی فلش میں بہا دیتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی اس حرکت کا خمیازہ دنیا والوں کو آئندہ 500سال تک کے لیے بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ” اگرچہ ٹوائلٹ پیپر بنانے والی کمپنیاں اس کو تسلیم نہیں کرتیں لیکن اکثر ٹوائلٹ پیپرز میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے جو سیوریج سسٹم میں جا کر ختم نہیں ہوتا
بلکہ آئندہ 500سال تک باقی رہ سکتا ہے۔ سیوریج کی بندش کی 93فیصد وجہ یہی ٹوائلٹ پیپر ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے ٹوائلٹ میں فلش کرتے ہیں لیکن باقی سارے مفت میں ان کی اس حرکت کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔“میرین کنزرویشن سوسائٹی کے شعبہ پالوشن کی سربراہ ڈاکٹر لورا فوسٹر کا کہنا تھا کہ ”برطانیہ میں ہر سال 3لاکھ سے زائد سیوریج بلاکیج کے کیس سامنے آتے ہیں جن کو دوبارہ چالو کرنے پر 10کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 15ارب روپے) لاگت آتی ہے۔ دنیا بھر میں صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جہاں سیوریج کے بلاک ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ٹوائلٹ پیپر ہوتے ہیں۔ اس لاگت کے علاوہ ان سے جمع ہونے والا گند ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں بھی صدیوں تک انسانوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ برطانیہ کی صرف ایک کمپنی نائس پیک سالانہ 67کروڑ پیک ٹوائلٹ پیپر بناتی ہے جس کا بڑا حصہ ٹوائلٹ میں ہی فلش کر دیا جاتا ہے۔“نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*