بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ڈالر اورامریکہ پر انحصار کا خاتمہ،آئی ایم ایف کو بھی گڈ بائے،

ڈالر اورامریکہ پر انحصار کا خاتمہ،آئی ایم ایف کو بھی گڈ بائے،

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری برادری پاکستان اور چین کے مابین کرنسی سواپ معاہدے کی بھرپور تائید کرتی ہے۔
اس سے ڈالر اور امریکہ پر پاکستان کا دارومدار کم ہو جائے گا اور آئی ایم ایف پاکستان کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گاکیونکہ چین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دس ارب یوآن کا قرضہ دیا ہے جو ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے برابر ہےجس سے ملک کی معاشی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کچھ عرصہ سے امریکی صدر نے پاکستان کی مالی مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے ہمارے ملک کے خلاف جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے اور کئی محاذ کھول رکھے ہیں جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔جنوبی ایشیاء کے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کھلی بھارت نوازی ہے
مگر اس معاہدے اور قرضہ کے بعد انکی دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی ۔ اب پاکستانی اور چینی تاجر امریکی ڈالر کے بجائے دوست ملک چین کی کرنسی یوآن میں تجارت کر سکیں گے جس سے دونوں ملکوں کی عوام مزید قریب آئیگی اور اس سے سی پیک پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ آئی ایم ایف سے اگر قرضہ لیا بھی تو وہ اپنی سخت اور عوام دشمن شرائط نہیں منوا سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور کاروباری برادری تجارت و سرمایہ کاری کیلئے یوآن استعمال کریں کیونکہ یہ امریکی ڈالر، یورواور جاپانی ین جیسی بین الاقوامی کرنسیوں سے کسی طرح کم نہیں بلکہ چین کی معیشت ان تمام ممالک سے زیادہ مستحکم ہے۔ موجودہ ملکی اور عالمی حالات، امریکی دھمکیوں ، پاکستان اور چین کے مابین تجارتی تعلقات میں مسلسل اضافے کے تناظر میں اس معاہدے سے دونوں ممالک، انکی کاروباری برادری اور عوام کو زبردست فائدہ پہنچے گا ۔کئی دہائیوں کے تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے

کہ چین امریکہ کے مقابلہ میں بہت زیادہ قابل اعتماد دوست ہے اس لئے ڈالر کو خدا حافظ کہنا ہی درست ہے۔واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرکاری و نجی اداروں کو چینی کرنسی یوآن میں تجارت کرنے کی کی اجازت دے دی ہے۔بینک اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین کے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ادارے تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کیلئے چینی یوآن کو منتخب کرنے کیلئے آزاد ہیں۔اعلامئے میں کہا گیا کہ زرمبادلہ کے موجودہ ضوابط کے تحت چینی کرنسی یوآن پاکستان میں بیرونی کرنسی لین دین کو ڈی نومینیٹ کرنے کی منظور شدہ کرنسی ہے۔اسٹیٹ بینک پہلے ہی مطلوبہ ضوابطی فریم ورک نافذ کر چکا ہے جس کے تحت تجارت و سرمایہ کاری لین دین میں چینی یوآن کے استعمال میں سہولت دی گئی ہے، جیسے ایل سیز کھولنا اور چینی یوآن میں فنانسنگ کی سہولتوں سے استفادہ کرنا،پاکستان میں ضوابط کے لحاظ سے چینی یوآن کو دیگر بین الاقوامی کرنسیوں کے مساوی حیثیت حاصل ہے

جیسے امریکی ڈالر، یورو اور جاپانی ین وغیرہ۔یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ پیپلز بینک آف چائنا سے کرنسی سواپ سمجھوتے (سی ایس اے) پر دستخط کے بعد سٹیٹ بینک نے چین کیساتھ دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری میں چینی یوآن کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے۔اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو چینی یوآن میں ڈیپازٹس قبول کرنے اور تجارتی قرضے دینے کی اجازت دی تھی۔کرنسی سواپ سمجھوتے کی رقوم سے قرض دینے کیلئے اسٹیٹ بینک نے بینکوں کیلئے قرضہ جاتی طریقہ کار وضع کیا ہے تا کہ وہ اسٹیٹ بینک سے چینی یوآن میں فنانسنگ حاصل کر کے درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کو چینی یوآن میں ڈی نومینیٹڈ تجارتی لین دین کے لیے قرضے جاری کر سکیں۔بینکوں کیلئے سیالیت کی اس سہولت کا طریقہ کار پہلے ہی اسٹیٹ بینک کے 2013ء کے سرکلر نمبر 09 میں صراحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا لمیٹڈ (آئی سی بی سی) پاکستان کو پاکستان میں چینی یوآن کے تصفیے اور کلیئرنگ کا مقامی سیٹ اپ بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*