بنیادی صفحہ / اہم خبریں / آئی فون خریدنے کا ارادہ ہے تو پہلے یہ خبر پڑھ لیں،

آئی فون خریدنے کا ارادہ ہے تو پہلے یہ خبر پڑھ لیں،

ایپل نے گزشتہ دنوں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ دانستہ طور پر پرانے آئی فونز کو سست کردیتی ہے، اب کمپنی نے اس پر صارفین سے معذرت کرلی ہے۔برسوں سے لوگوں کی شکایات کرتے رہے تھے کہ نئی ڈیوائس آنے کے ساتھ ہی پرانی سست ہونے لگتی ہے اور کمپنی ایسا جان بوجھ کر کرتی ہے، تاہم ایپل نے 20 دسمبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایسا پرانی بیٹری سے ڈیوائس کو ہونے والے نقصان سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
ایپل کی یہ وضاحت ان لوگوں کے لیے قابل قبول ثابت نہیں ہوئی جو الزام عائد کرتے ہیں کہ کمپنی ایسا اس مقصد کے لیے کرتی ہے تاکہ صارف نیا فون لینے پر مجبور ہوجائے۔ایپل کے اعتراف کے بعد اس کے خلاف کئی افراد نے مقدمات بھی دائر کیے۔اب ایپل نے ایک ہفتے میں فونز کو سست کرنے کے معاملے پر رسمی معذرت کرتے ہوئے پرانے فونز کی بیٹری بدلنے کے لیے خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ایپل کے مطابق آئی فون سکس یا اس کے بعد کے ماڈل میں بیٹری بدلتے ہی ان کی کارکردگی فوری طور پر پہلے جیسی ہوجائے گی۔ابھی ان نئی بیٹریوں کی قیمت 79 ڈالرز (8 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہے مگر ایپل کی جانب سے اب صارفین صرف 29 ڈالرز (تین ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں بیٹری بدل سکیں گے۔اس پیشکش کا آغاز جنوری سے ہوگا

اور 2018 کے تمام مہینوں میں صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔اسی طرح ایپل کی جانب سے ایک سافٹ وئیر اپ ڈیٹ بھی جاری کی جائے گی تاکہ صارفین کو اپنے فون کی بیٹری کی حالت کے بارے میں زیادہ معلوم ہوسکے۔ایپل کا کہنا تھا ‘ہم جانتے ہیں آپ میں سے کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ایپل نے ان کا دل توڑ دیا ہے، ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ رسمی معذرت اور کم قیمت میں بیٹری بدلنا لوگوں کا ایپل پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا نہیں، تاہم اس اعتراف کے بعد اس کی ساکھ کو بہت بڑا دھچکا ضرور لگا تھا جو ماہرین کے مطابق برسوں تک کمپنی کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتا ہے۔اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایپل کی جانب سے پرانے فونز کو سست کرنے پر معذرت نہیں کی گئی بلکہ وہ اسے درست فیصلہ ہی قرار دی جاتی ہے، بلکہ یہ معذرت اس بات کو خفیہ رکھنے پر کی گئی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*