بنیادی صفحہ / اہم خبریں / جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں رانا ثنااللہ،پنجاب پولیس کی طرف اشارہ

جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں رانا ثنااللہ،پنجاب پولیس کی طرف اشارہ

سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پنجاب حکومت نے جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ جاری کردی۔

صوبائی حکومت نے 132 صفحات پر مشتمل رپورٹ پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ کی ویب سائٹ کے ذریعے جاری کی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ میں سانحے کی وجہ بننے والے حالات و واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت کے وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ 16 جون 2014 کو اس بات کا فیصلہ کرچکے تھے پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو راولپنڈی سے لاہور لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کے لیے انہوں نے 23 جون 2014 کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طاہرالقادری کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک شخص کے فیصلے نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کے استعمال کی خطرناک حکمت عملی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں اگلے روز ہلاکتیں ہوئیں جنہیں روکا جاسکتا تھا۔

اگرچہ جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ میں سانحے کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالی گئی، لیکن کہا گیا کہ رپورٹ پڑھنے والے حقائق اور حالات کی روشنی میں باآسانی منہاج القرآن واقعے کے ذمہ داران کا تعین کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے چند مذمتی مشاہدات
رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں ہونے والے آپریشن کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں جن کو روکا جاسکتا تھا۔

واقعے کے حقائق و حالات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پولیس افسران نے سانحے میں پولیس افسران فعال طور پر شریک ہوئے۔

پنجاب کی تمام تر انتظامیہ نے اپنے طرز عمل سے ابہام پیدا کیا۔

پولیس کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ ان کو فائرنگ کرنے اور لوگوں کی پٹائی کے لیے ہی بھیجا گیا تھا۔

سانحے کی وجہ بننے والے واقعات
اپنی رپورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ 16 جون کے اجلاس کے دوران رانا ثنااللہ کو بتایا گیا کہ پاکستان عوامی تحریک حکومت کا تختہ الٹنے اور ’انقلاب‘ لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر صوبائی وزیر نے واضح طور پر کہا کہ طاہرالقادری کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کمشنر لاہور نے منہاج القرآن کے ارد گرد تجاوزات اور بیریئرز لگانے کے غیر قانونی اقدامات کی رپورٹ پیش کی، اجلاس میں تجاوزات ہٹانے کے لیے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جگہ ڈاکٹر توقیر شاہ شریک ہوئے جنہوں نے بیریئرز ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ آپریشن کے فیصلے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی رائے نہیں لی گئی۔

رپورٹ کے مطابق آپریشن کے لیے پولیس کی نفری کو بھیجا گیا جو 16 جون 2014 کی آدھی رات کو حکم کی تعمیل کے لیے منہاج القرآن پہنچی، تاہم وہاں موجود مشتعل ہجوم اور عوامی تحریک کے ہمدردوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا گیا۔

پولیس نے جوابی کارروائی کے تحت مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی، جس سے جائے وقوع پر متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے چند بعد ازاں دم توڑ گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس والوں نے کھلے عام خون کی ہولی کھیلی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*