بنیادی صفحہ / اہم خبریں / کراچی میں اے ٹی ایمز کے ذریعے بڑے فراڈ کا انکشاف

کراچی میں اے ٹی ایمز کے ذریعے بڑے فراڈ کا انکشاف

کراچی: کراچی کے اے ٹی ایمز میں اسکمرز لگا کر صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے ذریعے صارف رقم پاکستان میں نکلوائے گا تاہم پیسے چین میں موجود کسی شخص کو ملیں گے۔

گزشتہ کئی روز کے دوران سیکڑوں صارفین اپنی رقم کھو چکے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق اے ٹی ایم اسکمرز نے کراچی کے 579اے ٹی ایم کارڈز سے رقم نکالی۔

کارڈز سے اکاؤنٹ تک رسائی اے ٹی ایم میں خفیہ ڈیوائس لگا کر حاصل کی گئی جبکہ بینک کی کارروائی کے بعد ہی صارفین کو لاکھوں روپے کی چوری کے بارے میں پتہ چلا۔

ایف آئی اے نے بھی سائبر کرائم ایکٹ کے تحت معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

اسکیمنگ کیا ہے؟
اے ٹی ایم مشین میں ٹیکنالوجی سے نقب لگانے کا طریقہ اسکیمنگ کہلاتا ہے۔

کبھی اے ٹی ایم کی کارڈ سلاٹ پر دو نمبر کارڈ ریڈر چپکادیا جاتا ہے، کہیں دو نمبر کی پیڈ اے ٹی ایم پر سجادیا جاتا ہے۔

جرم کی اس کہانی میں ایک اور ٹوئسٹ خفیہ کیمرے کا ہے جس کی آنکھ اے ٹی ایم کا پن کوڈ ریکارڈ کرکے سارا ڈیٹا اپنے کرائم ماسٹر تک پہنچا دیتی ہے۔ کچھ اسکمرز اے ٹی ایم کا ڈسپلے ہی بدل دیتے ہیں۔

اسکیم سے کیسے بچیں؟
اس اسکیم سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جس مشین میں آپ اپنا اے ٹی ایم کارڈ ڈال رہے ہیں وہ اس کے ساتھ کوئی مشتبہ چیز تو نہیں جڑی ہوئی۔

اسکیمر کے لیے آپ کا پن کوڈ بہت اہم ہے جس کے بغیر چوری ممکن نہیں۔ جب آپ اپنا پن کوڈ مشین میں ڈالیں تو یہ کام چھپا کر کریں تاکہ اسکیمر کیمرے کی مدد سے اسے نہ دیکھ پائے۔

اگر کسی اے ٹی ایم مشین کے ساتھ آپ کو کوئی مسئلہ دکھائی دے تو وہاں سے اپنے پیسے نہ نکالیں اور بنک انتظامیہ کو رپورٹ کریں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*