بنیادی صفحہ / اہم خبریں / پوپ فرانسس کی دنیا کی بے حسی پرروہنگیا مسلمانوں سے معذرت

پوپ فرانسس کی دنیا کی بے حسی پرروہنگیا مسلمانوں سے معذرت

پوپ فرانسس نے میانمار سے بے گھر ہونے والے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر معافی مانگتے ہوئے ان کو حقوق دینے کا مطالبہ کیا اور دو روز قبل لفظ روہنگیا کہنے سے انکار کے بعد پہلی مرتبہ ڈھاکا میں ایک اجتماع میں روہنگیا کا لفظ بھی ادا کیا۔

پوپ فرانسس نے بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا مسلمانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی اور ان کی دکھ بھری کہانی سنی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

انھوں نے دنیا کی بے حسی پر معذرت کرتے ہوئے انھیں روہنگیا کے نام سے مخاطب کیا۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ آج خدا کی موجودگی بھی روہنگیا کہے گی۔

بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے کوکس بازار میں قائم مہاجرکیمپ سے 12 مرد، 2 خواتین اور 2 کم سن لڑکیوں سمیت 16 روہنگیا افراد دارالحکومت ڈھاکا پہنچے جبکہ مہاجر کیمپ میں 6 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد موجود ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار میں بدترین فسادات کا شکار ہوکر ہجرت پر مجبور ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کے مقامی بدھ مذہب کے پیروکار اور حکومت انھیں روہنگیا نہیں مانتی اور انھیں بنگالی مہاجرین کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:میانمار،روہنگیا مسلمانوں پرتشدد بند کرے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
میانمار انھیں مقامی بھی نہیں سمجھتا اور شہریت بھی دینے کو تیار نہیں جبکہ وہ کئی نسلوں سے میانمار میں رہتے ہیں۔

ڈھاکا پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کے گروپ کے تمام اراکین نے انفرادی طور پر پوپ فرانسس سے ملاقات کی اور بچوں اور جوانوں کو حوصلہ دیا۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ ‘ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کے لیے زیادہ کچھ نہ کرسکیں لیکن آپ کا دکھ ہمارے دلوں میں ہے’۔

انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ‘ان تمام افراد کی جانب سے جنھوں نے آپ کو سزا دی، جنھوں نے آپ کو دکھ پہنچایا اور دنیا کی بے حسی پر میں آپ سے معافی کا خواست گار ہوں’۔

پوپ فرانسس نے روہنگیا مہاجرین کے حقوق کو مسلمہ قرار دیتے ہوئے اس کو اجاگر کرتے رہنے کا اعادہ کیا اور بنگلہ دیش کو ان مہاجرین کی مدد پر بڑے دل کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے مزید مدد جاری رکھنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ پوپ فرانسس نے میانمار میں میزبان سے سفارتی اقدار کے خیال سے کھلے عام لفظ روہنگیا ادا کرنے احتراز برتا تھا جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور خود روہنگیا مسلمانوں کی جانب سے شدید مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:میانمار: ایک ہفتے میں ہلاک روہنگیا افراد کی تعداد 400 سے زائد
پوپ فرانسس کی جانب سے روہنگیا نہ کہنے کے معاملے پر روہنگیا مسلمان افراد ان سے ملنے ڈھاکا پہنچے اور انھیں ان کی شناخت کے اعتراف پر زور دیا۔

32 سالہ روہنگیا مسلمان محمد ایوب کا کہنا تھا کہ ‘وہ دنیا کے رہنما ہیں اور انھیں وہ لفظ کہنا چاہیے کہ ہم روہنگیا ہیں’۔

پوپ فرانسس نے ان افراد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کی عزت افزائی کا شکریہ اور اس سے چرچ سے آپ کی محبت کا بھی اظہار ہوتا ہے’۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*