بنیادی صفحہ / اہم خبریں / شام میں روسی بمباری سے 53 افراد ہلاک

شام میں روسی بمباری سے 53 افراد ہلاک

شام کے مشرقی گاؤں الشفہ میں روسی فضائی بمباری میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شام کے حالات پر نظر رکھنے والی برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح مبینہ طور پر مارے جانے والے افراد میں 21 بچے شامل ہیں۔
یہ گاؤں دیر الزور صوبے میں ہے جہاں نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کا بعض علاقوں پر ابھی بھی قبضہ ہے۔ خیال رہے کہ دیرالزور شام کے ان چند صوبوں میں ہے جہاں دولت اسلامیہ کے گڑھ موجود ہیں۔
ابتدا میں ایس او ایچ آر نے خبر دی تھی کہ رہائشی عمارتوں پر فضائی حملے میں 34 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لیکن اس نگراں گروپ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے خیال میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔
رامی عبدالرحمن نے بتایا: ‘دن بھر ملبہ ہٹانے اور امدادی کام کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا پتہ چلا۔’
یہ بھی پڑھیں
٭ روس شام میں کیا کر رہا ہے؟
٭ ’دولتِ اسلامیہ جا چکی لیکن رقہ اب بھی انتہائی خطرناک‘
٭ دولت اسلامیہ 5600 جنگجو: گھروں کو لوٹ گئے
اس سے قبل روس نے تصدیق کی تھی کہ ان کے دور تک پرواز کرنے والے چھ بمبار طیاروں نے اس علاقے میں حملے کیے تھے لیکن اس میں یہ کہا گیا تھا کہ انھوں نے جنگجوؤں اور ان کے گڑھ کو نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ کئی برسوں سے شام میں جاری خانہ جنگی میں روس صدر بشار الاسد کا اہم حلیف رہا ہے۔

ملبے کو ہٹانے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا پتہ چلا
اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والے امن مذاکرات کے جنیوا میں آئندہ ہفتے پھر سے شروع ہونے کی امید ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اس سے قبل مذاکرات کے کئی دور ناکام ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ اتوار ہی کو ایک دوسرے واقعے میں دمشق کے مضافات میں باغیوں کے قبضے والے ایک علاقے میں 23 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں کئی مقامات کو فضائی حملے اور توپ سے نشانہ بنایا گيا ہے۔
ان دونوں واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ تقریبا دو ہفتے قبل شامی فوج کی پیش قدمی کے بعد سے اب تک وہاں 120 افراد مارے جا چکے ہیں۔
چار سال کے محاصرے کے بعد غوطہ کے چار لاکھ محصور رہائشیوں کے حالات بےحد خراب ہیں اور فاقوں سے ان کی موت کی خبریں آ رہی ہیں۔
گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق وہاں غذائی اشیا کی اس قدر کمی ہے کہ لوگ جانوروں کا چارا اور کوڑے سے سامان اٹھا کر کھانے پر مجبور ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*