بنیادی صفحہ / اہم خبریں / دھرنا کیس: معاہدے کی شرائط پر سنجیدہ اعتراضات ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

دھرنا کیس: معاہدے کی شرائط پر سنجیدہ اعتراضات ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے کے خلاف درخواستوں پر آج کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہےکہ عدالت کو معاہدے کی شرائط پر سنجیدہ اعتراضات ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے وزیرداخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔


مہلت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج دوبارہ سماعت کی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوئے۔

اس موقع پر چیف کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدہ طے پاگیا اور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کردیا جائے گا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں فیض آباد کو دھرنا مظاہرین سے خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔

معزز جج نے استفسار کیا کہ دھرنا مظاہرین سے ہونے والا معاہدہ پڑھ کر سنائیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ راجا ظفرالحق رپورٹ 30 روز میں منظرعام پر لائی جائے گی۔

اس موقع پر وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ قومی قیادت کے اتفاق سے معاہدہ کیا گیا اور وہ ثالث نہیں گواہ کے طور پر شامل ہوئے۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا ختم ہونے والا ہے اور کچھ دیر میں پریس کانفرنس بھی ہوگی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھرنے والوں نے اس حوالے سے لکھ کردیا ہے۔

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ آرمی اپنے آئینی کردار میں رہے، جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں آئیں۔

جسٹس شوکت صدیقی نے سوال کیا کہ قوم کے ساتھ یہ تماشا کب تک چلتا رہے گا، اپنے ملک کے ادارے اپنی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں، آپریشن ردالفساد کدھر گیا، یہاں کسی کو فساد نظر نہیں آیا، دھرنے والوں نے ججز کو گالیاں دیں، معافی کی شق معاہدے میں کیوں نہیں۔

فاضل جج نے مزید استفسار کیا کہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات ختم کرکے معافی کیسے دی جائے گی۔

جسٹس شوکت صدیقی نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے، آپ نے کوئی کام نہیں کیا، دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کیا ہے اور کیا معاہدے میں آپ نے کوئی اپنی ایک بھی بات منوائی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مظاہرین کے پیچھے یہ لوگ ہیں جس پر احسن اقبال نے کہا کہ یہ تو مظاہرین ہی بتا سکتے ہیں میں کیسے بتا سکتا ہوں۔

کمرہ عدالت میں موجود نمائندہ آئی ایس آئی نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر جو رپورٹس آئیں وہ غیر تصدیق شدہ ہیں اس لئے عدالت سوشل میڈیا پر کمنٹ نہ کرے۔

نمائندے نے کہا کہ صورتحال کنٹرول کرنے کے دو ہی راستے تھے، پرامن طریقہ یا پرتشدد طریقہ، جب عدالت کا حکم ملا تو پھر پرامن راستے کا انتخاب کیا۔

اس موقع پر جسٹس شوکت صدیقی نے آئی ایس آئی کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ انتظامیہ کا حصہ ہیں، آپ ثالث کیسے بن گئے، آپ کو گولی چلانے کا حکم نہیں دیا، پہلے وارننگ دینی تھی، بات نہ ماننے پر فورس استعمال کرنی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بیرونی جارحیت ہوئی تو فوج کے لئے خون بھی حاضر ہے، 1965 کی جنگ میں ہم نے جھولی پھیلا کر افواج کے لئے چندے جمع کیے اور اب بھی ملک کو کوئی خطرہ ہوا تو افواج کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

معزز جج نے مزید کہا کہ فوج ہمارا فخر ہے اور اس میں ہمارے باپ، بیٹے اور بھائی شامل ہیں لیکن فوج کی ثالثی کا کردار قابل قبول نہیں اور فوج کو اپنا کردار آئینی حدود میں ادا کرنا چاہیے۔

عدالت نے حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان معاہدے کی کاپی آج ہی عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پیر 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔

عدالت کا تحریری فیصلہ جاری
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ 4 صفحات پر مشتمل فیصلے میں حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان معاہدہ بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، چیف کمشنر نے معاہدے کا متن پڑھ کر سنایا۔

فیصلے کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کی گئی، وفاقی حکومت اور ثالث نے گھٹیا زبان پر دھرناقیادت سےمعافی کا نہیں کہا، معاہدے کی شرائط پر عدالت کو سنجیدہ اعتراضات ہیں اور طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*