بنیادی صفحہ / اہم خبریں / غیر ملکی میڈیا اب غیر ملکی ایجنٹ؟

غیر ملکی میڈیا اب غیر ملکی ایجنٹ؟

روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے ایک قانون پردستخط کیے ہیں جس کےتحت حکومت کو اجازت ہوگی کہ وہ ملک میں کام کرنے والے کسی بھی غیر ملکی میڈیا کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے دے۔
کریملن کے حمایت یافتہ میڈیا گروپ رشیا ٹوڈے (آرٹی) کو امریکہ میں غیر ملکی ایجنٹ کےطور پررجسٹر کرانے کے احکامات کے ردعمل میں روسی پارلیمان سے اس بل کو منظور کرایا گیا ہے۔
نئے قانون سے امریکی فنڈنگ سے چلنے والے کم از کم نو ادارے متاثرہوں گے جن میں وائس آف امریکہ اور ریڈیو فری یورپ یا ریڈیو لبرٹی شامل ہیں۔
آرٹی پر الزام ہے کہ وہ امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کا حصہ رہا ہے البتہ ادارہ اس دعوی کو مسترد کرتا ہے۔
مزید پڑھیے
صحافت کا ’نیا قانون‘
امریکہ ہیکنگ کے ثبوت لائے یا پھر خاموش رہے: روس
اب روس امریکہ مخالف پروپیگنڈا ختم کر دے گا؟
روس کے اس نئے قانون سے وہ غیر ملکی رجسٹرڈ میڈیا ادارے متاثر ہوں گے جو روس کے باہر سے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں۔ ان اداروں پر عائد کی گئی اضافی شرائط کو پورا کرنے میں ناکامی کی صورت میں ان کی سرگرمیاں معطل کی جاسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ اگر ان اداروں کو رجسٹر کرنے کی ضرورت ہے تو انہیں اپنی نشریات اور ویب سائیٹ پر بتاناہوگا کہ وہ غیر ملکی ایجنٹس ہیں۔
روس میں ایسا ہی ایک قانون پہلے سے موجود ہے جس میں امدادی اداروں اور دیگر سول سوسائٹی گروپس کو ہدف بنایا گیا ہے۔
روس کی وزارتِ انصاف اب اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ان نئے اقدامات کا اطلاق میڈیا کے کس ادارے پر کس صورتحال میں ہوگا۔
روسی نشریاتی ادارے آر ٹی کا کہنا ہے کہ اُس نے امریکہ کے محکمہ انصاف کی درخواست پر گذشتہ ہفتے ہی ادارے کو ایک غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔
یہ ہدایات فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت دی گئی ہیں جسے 1938 میں امریکی سرزمین پر نازی نواز تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا اور غیر ملکی حکومت کے لیے سیاسی سرگرمی میں مصروف عناصر پر اس کا اطلاق ہوتا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے نئے اقدامات کے تحت آرٹی کو اپنے مواد پر لیبل لگانا ہوگا جس میں واضح ہو کہ اس کی رپورٹس روسی ریاست کی جانب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ان شرائط کو عدالت میں چیلنج کرے گا۔
واضح رہے کہ روس گذشتہ برس امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*