بنیادی صفحہ / اہم خبریں / پشاور میں دھماکہ، ایڈیشنل آئی جی ہلاک

پشاور میں دھماکہ، ایڈیشنل آئی جی ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور شہر کے علاقے حیات آباد میں زرغونی مسجد کے قریب ایک دھماکے میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر اشرف نور ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکے میں ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے قبول کی ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے ترجمان علامہ علی شیر حیدری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس حملے کے ذریعے اپنے تین ساتھیوں کا بدلہ لیا ہے۔‘

جمعے کی صبح نو بجے کے قریب پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں زرغونی مسجد اور حیات آباد سپورٹس کمپلکس کے درمیان سڑک پر خودکش حملہ کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہیڈ کوارٹر خیبر پختونخوا اشرف نور کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ ہلاک ہو گئے اور پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
امدادی کارکن محمد نوید نے بتایا کہ وہ دھماکے کے سات منٹ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے تو اس وقت ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر اشرف نور کی گاڑی اور خود کشن حملہ آور کے موٹر سائیکل کو آگ لگی ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ریسکیو ادارے 1122 کے اہلکاروں نے آگ بجھائی اور زخمیوں کو فوری طور پر حیات آباد میڈیکل کمپلکس پہنچایا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے فوری بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
حیات آباد کا شمار شہر کے اہم علاقوں میں ہوتا ہے جہاں متعدد سرکاری دفاتر موجود ہیں۔
خیال رہے کہ 22 نومبر کو پشاور میں دیسی ساختہ باردوی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔
اشرف نور کون تھے؟
اشرف نور
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ہیڈ کواٹر خیبر پختونخوا اشرف نور تیسرے پولیس افسر ہیں جنھیں اس ماہ تشدد کے واقعے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے دو پولیس افسران کو کوئٹہ میں ہلاک کیا گیا۔
اشرف نور کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے سکردو سے تھا اور اس سال فروری میں انھیں 21ویں گریڈ میں ترقی ملی تھی۔
اشرف نور اپریل 1963 میں پیدا ہوئے اور تعلیم میں ایم ایس سی ایگریکلچر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ 1989 میں پولیس میں بھرتی ہوئے۔ وہ پی ایس پی افسر تھے۔
سروس کے دوران وہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں ایبٹ آباد، چترال، کوہستان میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدوں پر فائز رہے جبکہ جنوری 2005 میں انھیں 19ویں گریڈ میں ترقی دی گئی تھی۔ انھوں نے پولیس کے تفتیش کے شعبے اور کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج کے فرائض بھی سر انجام دیے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*