بنیادی صفحہ / اہم خبریں / باحجاب مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکا

باحجاب مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکا


بھارت میں ایک ادارے کی جانب سے حجاب پہننے اور مسلمان دِکھنے پر مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکار کر دیا گیا۔

الجزیرہ کے مطابق متاثرہ مسلمان لڑکی ندال زویا نے بیاتا کہ انہیں دارالحکومت نئی دہلی کے یتیم خانے میں صرف اس لیے نوکری نہیں دی گئی کیونکہ میں نے حجاب پہنتی ہوں اور حلیے سے مسلمان دکھتی ہوں۔

ٹاٹا انسٹیٹوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی کی طالبہ ندال زویا نے بتایا کہ یتیم خانے میں نوکری کے لیے ای میل پر سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں تحریر تھا،

’ہم معذرت خواہ ہیں کیونکہ آپ ایک کلو میٹر دور سے بھی ایک مسلمان خاتون معلوم ہوتی ہیں‘

اکتوبر میں ندال زویا کو دہلی میں لڑکیوں کے یتیم خانے میں سوشل ورکر کے طور پر منتخب کیے جانے کے بعد یتیم خانے کے صدر اور سی ای او ہریش ورما کی جانب سے زویا کو آن لائن ٹیسٹ دینے اور اپنی تصویر بھیجنے کا کہا گیا۔

ہریش ورما کی جانب سے زویا کو مشورہ بھی دیا گیا کہ اگر وہ اس نوکری کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں تو حجاب پہننا چھوڑ دیں۔

زویا کی جانب سے یتیم خانے کے صدر کی پیش کش کو مسترد کیا گیا تو ہریش ورما کی جانب سے ایک ای میل کی گئی۔

ہریش ورما کی جانب سے ای میل میں کہا گیا کہ مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ آپ نے انسانیت سے زیادہ قدامت پسند اسلام کو فوقیت دی اور یہ کہ آپ نے اپنی تمام تعلیم ضائع کی۔

ندال زویا اور ہریش ورم کے درمیان ہونے والے ای میل کے تبادلے میں ورما نے کہا کہ میں اپنے یتیم خانے میں کسی قسم کے مذہبی عمل کی اجازت نہیں دوں گا۔

زویا کو بعد ازاں آگاہ کیا گیا کہ ان کی جگہ ایک اور آزاد خیال اور مذہبی رجحانات سے پاک مسلمان لڑکی کو نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔

زویا کی جانب سے کہا گیا کہ میں اسے نا تو مسترد کرنا سمجھتی ہوں اور نا ہی خود کو متاثرہ سمجھتی ہوں۔

اس نے کہا میرا مقصد صرف یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں کہ جس نے اس قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا کیا ہے۔ لوگوں کو کم از کم اس معاملے پر بات کرنی چاہیے تاکہ مذہب اور ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے ہونے والے امتیازی سلوک پر پوچھ گچھ ہو سکے۔

عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر سورابھ بھردواج نے کہا کہ اگر زویا نے اس حوالے سے باقاعدہ شکایت کی تو حکومت ہریش ورما کے خلاف ایکشن لے گی۔

سورابھ بھردواج نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کے ساتھ اس کے عقائد کی بنیاد پر امتیاز برتا جائے۔

دوسری جانب ہریش ورما کی جانب سے الجزیرہ کو بتایا گیا کہ وہ اپنے ادارے کے لیے ایک سیکیولر ذہن رکھنے والی لڑکی کی تلاش کر رہے تھے اور زویا کو نوکری پر نہ رکھنے کا فیصلہ اہلیت پر کیا گیا۔

ہریش ورما نے مزید کہا کہ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے اور ہم مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگوں کو اہمیت نہیں دیتے، اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنے یتیم خانے کو مذہب سے آزاد ادارہ بنانا چاہتا ہوں۔

زویا کا اس حوالے سے کہنا ہے میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعہ بھارت میں اسلامو فوبیا کی ایک مثال ہے، جو بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

زویا نے مزید کہا کہ میرا اسکارف ہی میری آزاد خیالی اور اعتماد ہے اور اپنا سر ڈھانپنا مکمل طور پر میرا ذاتی فیصلہ ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*