بنیادی صفحہ / اہم خبریں / وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے: نیب

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے: نیب


پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے سے متعلق ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اسحاق ڈار اِن دنوں لندن میں زیرِ علاج ہیں جبکہ احتساب عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔
اسحاق ڈار کے بارے میں یہ بھی پڑھیے
’اسحاق ڈار چار منٹ سے زیادہ دیر تک پیدل نہیں چل سکتے‘
’ڈار کا وزیر خزانہ ہونا نقصان دہ ہے‘
اسحاق ڈار پر 27 ستمبر کو فردِ جرم عائد ہو گی
نیب ریفرنسز کب کیا ہوا؟
قومی احتساب بیورو یا نیب کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ احتساب عدالت ملزم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں اس لیے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسحاق ڈار

نیب نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے زیر استعمال تین اکاونٹس بھی منجمند کیے ہوئے ہیں
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ عہدے پر فائض وزیر خزانہ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ حکمراں جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں۔
ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں وزارت داخلہ میں کوئی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے ضمانتی احمد علی قدوسی نے احتساب عدالت کو بتایا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ کو وطن واپس آنے میں چھ ہفتے لگ سکتے ہیں جس پر عدالت نے ملزم کے ضمانتی سے کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر اسحاق ڈار پیش نہ ہوئے تو ان کے50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بحقِ سرکار ضبط کرلیے جائیں گے۔

اسحاق ڈار کی اہلیہ اور بچوں کے نام جائیداد کو فروخت کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے
نیب نے اس ریفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ کے زیر استعمال تین اکاونٹس بھی منجمند کیے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام جائیداد کو فروخت کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا ہے۔
ملزم نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ نہیں دیا لیکن نیب نے اپنے تئیں ان تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ان ریفرنسوں کو ختم کرچکا ہے اور نیب کا یہ اقدام غیر قانونی ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*