بنیادی صفحہ / اہم خبریں / علم فلکیات میں پاکستان دنیا سے پیچھے کیوں؟

علم فلکیات میں پاکستان دنیا سے پیچھے کیوں؟

پاکستان میں علمِ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہوگا کہ ہمارے ملک میں فلکیاتی علم کو غیر اہم کیوں سمجھا جاتا ہے، اور اس اہم ترین شعبے کے لیے حکومت کوئی اقدامات کیوں نہیں اٹھا رہی؟

یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات خود حکومتی عہدیداروں کے پاس بھی نہیں، کیونکہ پاکستان میں حکومتی و ریاستی سطح پر علم فلکیات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی جاتی، یہی وجہ ہے کہ کائنات کی دوڑ میں باقی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی ہمارے ملک میں ذرہ برابر بھی فلکیاتی جستجو نہیں؟

تو جواب ہے کہ ایسا بلکل نہیں، ایسا سمجھنا بلکل غلط ہوگا کہ پاکستان میں فلکیات کو سمجھنے کی بالکل بھی جستجو نہیں پائی جاتی، بے شک اس حوالے سے حکومت کچھ خاص کام نہیں کر رہی، لیکن بہت سے لوگوں نے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت کچھ سوسائٹیاں بنا رکھی ہیں، جو چھوٹی سطح پر فلکیات کا علم دیگر تک پہنچانے کا کام کرتی ہیں اور دوربینوں سے آسمانی مشاہدات بھی کرواتی ہیں۔

علمِ فلکیات اتنا اہم ہے کہ اقوام متحدہ نے اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ’ورلڈ اسپیس ویک‘ یعنی ’عالمی خلائی ہفتہ‘ منانے کا اعلان کر رکھا ہے، اور دنیا ہر سال ماہ اکتوبر میں یہ ہفتہ مناتی ہے۔

اگرچہ گزشتہ ماہ 4 سے 10 اکتوبر میں دنیا بھی حکومتی و ریاستی سطح پر ’عالمی خلائی ہفتہ‘ منایا گیا، مگر پاکستان میں ہر سال کی طرح اس سال بھی کوئی خاطر خواہ پروگرامات نہیں ہوئے، بلکہ کئی لوگ تو اس بات سے ہی بے خبر رہے کہ اکتوبر میں یہ ہفتہ بھی منایا گیا، اور میرا اندازہ ہے کہ پاکستان کے کروڑوں افراد اس بات سے بے خبر ہوں گے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت ’عالمی خلائی ہفتہ‘ بھی منایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرینِ فلکیات خلائی مخلوق کے قریب پہنچ گئے؟
دنیا بھر میں 4 سے 10 اکتوبر تک "عالمی خلائی ہفتہ” منایا جاتا ہے۔ 6 دسمبر 1999 میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ دنیا بھر میں 4 سے 10 اکتوبر تک "خلائی ہفتہ” منایا جائے گا۔ سال کے اسی مہینے کی یہی 2 تاریخیں اس لیے رکھی گئیں کیوں کہ 4 اکتوبر ہمیں 4 اکتوبر 1957 کی یاد دلاتی ہے، جب پہلی انسانی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا تھا، اور 10 اکتوبر ہمیں 10 اکتوبر 1967 کی یاد دلاتی ہے، جس دن یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کائنات کی ہر چیز کو کسی اشتعال انگیزی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

فلکیاتی ادارے کے حوالے سے دنیا میں اپنا مقام برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی خلائی ایجنسی ’سپارکو‘ بھی ہر سال ’عالمی خلائی ہفتہ‘ مناتی ہے، سپارکو کے تحت ملک کے تمام صوبائی دارلحکومتوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہر سال پروگرامات منعقد کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں ’عالمی خلائی ہفتے‘ کے دوران سپارکو میں فلکیات و ایروناٹکس سے متعلقہ غیر نصابی سرگرمیاں کروائی جاتی ہیں، جس میں مختلف اسکولوں سے بلائے گئے طلبہ حصہ لیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ طلبہ اس ہفتے میں کچھ نیا سیکھتے ہوں گے، جو انھیں کتابوں میں نہیں پڑھایا جاتا۔ فزکس کی درسی کتابوں میں فلکیاتی عنوان باقیوں کی نسبت قدرِ کم ہوتا ہے، اس لیے طلبہ کو اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے جب انھیں ایسے مواقع ملتے ہیں تو وہ اس میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔

ہر سال اس "عالمی خلائی ہفتے” کا ایک مخصوص موضوع ہوتا ہے اور اس کے لحاظ سے ہی مضمون نگاری، "قرآن اور فلکیات” کا سیشن اور ماڈل بنائے جاتے ہیں۔

ملک بھر میں اس ہفتے کا آغاز الله کے نام سے کیا جاتا ہے، یعنی سب سے پہلا سیشن "قرآن اور فلکیات” کا ہوتا ہے، جس میں مختلف بچے قرآن کی وہ آیات پڑھتے ہیں جن میں فلکیات کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد ان پڑھی گئی آیات کا ترجمہ اور تشریح بھی پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ یہ سیشن مقابلے کی صورت میں ہوتا ہے، اور جس اسکول کے بچوں نے قرآن کی وہ آیات پڑھی ہوتی ہیں جو نہایت حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ موضوع سے بہت زیادہ مماثلت رکھتی ہوں، انہیں انعام کے طور پر ایک عدد "گلیلین دوربین” (سائنسدان گلیلیو کی دوربین کے طرز پر بنی دوربین) سے نوازا جاتا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*