بنیادی صفحہ / اہم خبریں / حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: شریف خاندان کے ایک اور امتحان کا آغاز

حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: شریف خاندان کے ایک اور امتحان کا آغاز

اسلام آباد: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ 13 نومبر سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرے گا۔

حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس
خیال رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی تھی۔

حدیبیہ پیپرز کے سات ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر شامل ہیں جبکہ کمپنی آرڈیننس کے تحت اس مل کا 30 جون 1998 میں آڈٹ ہونا تھا۔

کمپنی کے دو ڈائریکٹرز میاں عباس شریف اور صبیحہ عباس کے دستخط کردہ سال 1998 کی بیلنس شیٹ آڈٹ کے لیے پیش کی گئی، بیلنس شیٹ میں 61 کروڑ 22 لاکھ روپے کی اضافی رقم شیئر ڈپازٹ کی مد میں پیش کی گئی تھی جبکہ اس رقم سے قبل بھی 3 کروڑ روپے بیلنس شیٹ میں موجود تھی جس کی کوئی وضاحت شریف خاندان کے پاس نہیں تھی۔

دونوں رقوم کو ملا کر کل رقم 64 کروڑ 27 لاکھ روپے بنتی ہے، اسی بیلنس شیٹ میں التوفیق سے سرمایہ کاری کے لیے قرضے اور پھر لندن میں مقدمے کا بھی انکشاف ہوا جس کی تفصیلات آڈیٹر کو فراہم نہیں کی گئیں، یہ معاملہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجا گیا۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: 13 نومبر سے نیب کی اپیل پر سماعت کا آغاز

مذکورہ معاملے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم کو فارن ایکوٹی انویسٹمنٹ کے طور پر قانونی ظاہر کیا گیا، مذکورہ رقوم غیر ملکی اکاؤنٹس سے بھجوائی جاتی رہیں جبکہ اسحٰق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے غیر ملکی بے نامی اکاﺅنٹس کھولے اور انہوں نے قاضی خاندان کو دھوکا دے کر ان کے نام پر رقوم بیرون ملک منتقل کیں۔

غیر ملکی جعلی اکاؤنٹس صدیقہ سید، سکندرہ مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے ناموں سے 1992 میں کھلوائے گئے تھے جبکہ مذکورہ خاندان کو ان اکاﺅنٹس کا علم ہی نہ تھا۔

خیال رہے کہ اس کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اور نواز شریف کے دست راست اسحٰق ڈار نے عدالت کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا اور نہ صرف مزکورہ بالا چار اکاؤنٹس کھلوائے بلکہ کئی دیگر اکاﺅنٹس بھی کھلوائے جن میں اسحٰق ڈار کے قریبی ساتھی، نواز شریف کے ملازمین اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں اور اس سارے عمل میں نیشنل بینک کے صدر کا منی لانڈرنگ میں تعاون رہا۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق ان اکاﺅنٹس کو کھلوانے کا مقصد Protection of Economic Reforms Act 1992 کے تحت کالا دھن سفید کرنا تھا جبکہ اسحٰق ڈار نے 90 کی دہائی میں 1 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی تاہم وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*