بنیادی صفحہ / اہم خبریں / بھارت میں انتہا پسند ہندو پھر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے، پولیس کے سامنے مسلم نوجوان قتل

بھارت میں انتہا پسند ہندو پھر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے، پولیس کے سامنے مسلم نوجوان قتل

بھارتی ریاست راجستھان میں گاؤ رکھشا کے کارکنوں نے ایک مسلمان کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان کے علاقے الور میں ہریا نہ ڈیری فارم کے قریب گاؤ رکھشا اراکین نے گائے کو لے کر جانے والے دومسلمانوں کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے رہے اسی جگہ پر رواں سال اپریل میں مسلمان کسان پہلوخان کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر مار دیا تھا۔

عمر خان اور طاہر خان الور سے ضلع بھارتپور کے گاؤں گھاٹ میکا کی طرف ایک ٹرک میں چار گائے لے کر جارہے تھے کہ مشتعل ہجوم نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں ہراساں کیا اور دونوں پر شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں عمرخان دم توڑ گئے۔

ہجوم نے قتل کو چھپانے کے لیے عمرخان کی لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینک دیا جہاں پولیس نے جب لاش برآمد کی تو ریل اس کے اوپر گزر چکی تھی تاہم باقیات کو راجیو گاندھی ہسپتال الور منتقل کردیا گیا۔

متاثرہ خاندان مقدمہ درج کرنے کے لیے مقامی پولیس تک پہنچ گئی لیکن وہ ایف آئی آر درج کروانے میں تاحال ناکام رہے۔

مزید پڑھیں:بھارت: گائے لے جانے والے 2 مسلمان تشدد کے بعد قتل
دوسری جانب زخمی طاہر خان موقع سے بچے نکلے اور اطلاعات کے مطابق وہ ہریانہ کے قریبی علاقے فیروزپور جھرکا میں ایک نجی ہسپتال میں داخل ہوگئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق میو برادری سے ہے جن کی میوات کے علاقے میں اکثریت ہے جبکہ راجستھان، ہریانہ اور اترپردیش کے مختلف علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

میو برادری نے واقعے کے بعد احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال سے مقتول کی لاش لینے سے انکار کردیا۔

الور میں ہسپتال کے باہر احتجاج کی سربراہی کرنے والے کانگریس کے ضلعی صدر جمشید خان نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے چند اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر تعینات کر دیا گیا تھا لیکن انھوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

واضح رہے کہ بھارت کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حکومت میں آنے اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں گائے کے گوشت کے استعمال کرنے والوں پر حملوں میں تیزی آگئی ہے اور انتہا پسند ہندوؤں اور ‘گائے رکشک تحریک’ کے کارکنوں کی جانب سے رونما ہونے والے پُرتشدد واقعات میں سیکڑوں مسلمان اور نچلی ذات کے ہندو ہلاک ہوچکے ہیں۔

رواں سال اگست کے اواخر میں مشرقی ریاست بنگال کے ایک گاؤں میں ٹرک پر مویشی لے جانے والے دو مسلمانوں کو مشتعل دیہاتیوں نے تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*