بنیادی صفحہ / اہم خبریں / پاکستان نے کلبھوشن جادھو سے ان کی اہلیہ کی ملاقات کرانے کی پیشکش کی ہے

پاکستان نے کلبھوشن جادھو سے ان کی اہلیہ کی ملاقات کرانے کی پیشکش کی ہے


پاکستان نے انڈیا کو انسانی بنیادوں پر مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی ملاقات ان کی اہلیہ سے کرانے کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر ’انڈین جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی ملاقات ان کی اہلیہ سے کرائی جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے:
’پاکستان میں را کے لیے کام کیا‘
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس
’حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے‘
‘کرنل صاحب کو دہلی میں ڈھونڈیے’
‘اس حوالے سے ایک میمو آج انڈین ہائی کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔’
واضح رہے کہ اس سے قبل انڈیا کئی بار کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے کی درخواست کر چکا ہے۔ اور ہر بار پاکستان نے یہ درخواست مسترد کی ہے۔
3 مارچ: بھارتی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔
24 مارچ: پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں اور انہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار کیا گیا۔
26 مارچ: حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔
29 مارچ: کلبھوشن جادھو کے مبینہ اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔
اپریل: کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔
10 اپریل: کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔
10 مئی: بھارت نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔
15 مئی: عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
18 مئی: عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔
کلبھوشن جادھو کو سزائے موت سنائے جانے پر انڈیا میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر لیا تھا۔
بی جے پی کے سوامی سبرامینیم کی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر پاکستان نے اس کے بعد بھی کوئی ایسی حرکت کی تو سندھ پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو ‘انڈیا کا فرزند’ قرار دیا تھا اور پاکستان کی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو پاکستان کو باہمی تعلقات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔
انڈین پارلیمان میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کلبھوشن کے پاس ویزا تھا اور انھیں جاسوس قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کلبھوشن کے بارے میں انڈیا کا موقف یہ ہے کہ وہ ایک ریٹائرڈ نیوی افسر ہیں جو ایران میں اپنے کاروبار کے سلسلے میں موجود تھے جہاں سے انھیں اغوا کر کے پاکستان لایا گیا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*