بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ویسٹ انڈین ٹیم کیوں نہیں آ رہی؟

ویسٹ انڈین ٹیم کیوں نہیں آ رہی؟


چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے گذشتہ چند روز میں ایسے کئی بیانات دیے، مگر بات وہی ہے کہ پہلے تولو پھر بولو، سیٹھی صاحب کا چونکہ میڈیا سے تعلق ہے اس لیے لائم لائٹ میں رہنا پسند کرتے ہیں،ان کی چڑیا چونکہ ویسٹ انڈیز تک پہنچ نہیں رکھتی اور پاکستان میں وہ خوشامدیوں کے ٹولے میں گھرے رہتے ہیں لہذا کسی نے انھیں زمینی حقائق سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھا، اس لیے اب شرمندگی اٹھانا پڑ رہی ہے.
گوکہ بورڈ لاہور میں اسموگ کو سیریز نہ ہونے کی وجہ قرار دے رہا ہے مگر کئی روز قبل ہی یہ بات سامنے آ گئی تھی کہ مہمان کرکٹرز سیکیورٹی پر تشویش اور بی پی ایل کی مصروفیات کے باعث نہیں آنا چاہتے، اب سب سے پہلی بات تو یہ کہ چیئرمین ذہن نشین کر لیں کہ چاہے 50 کروڑ روپے خرچ کر کے ہی سہی مگر ورلڈ الیون پاکستان آچکی، اسی طرح سری لنکا کی بی ٹیم آئی مگر دورے سے تاریخ رقم ہوئی۔
یہ کریڈٹ بورڈ سے کوئی نہیں چھین سکتا، مگر سب کچھ 2017میں ہی کرنا ضروری تو نہیں، عام حالات میں بھی ایک برس کے دوران 2 سے زیادہ ٹیمیں کم ہی کسی ملک کا دورہ کرتی ہیں لہذا آرام سے بیٹھ کر نئے سال کی پلاننگ کرتے، مگر نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوانے کی کوشش میں جلد بازی کر بیٹھے،شاید انھیں لگتا ہے کہ آئندہ برس حکومت کی تبدیلی سے ان کا بورڈ میں دور ختم ہو جائے گا، اس لیے جو کرنا ہے جلدی کر لو، ویسٹ انڈیز سے جب تک معاملات طے نہ ہوتے آپ کو اعلان نہیں کرنا چاہیے تھا، اب ہماری ساری محنت رائیگاں چلی گئی، باہر لوگ باتیں بنا رہے ہیں کہ سری لنکا کے اہم پلیئرز دستبردار ہو گئے اور اب ویسٹ انڈیز نے منع کر دیا، شاید پاکستان کے حالات اب تک ٹھیک نہیں ہوئے، یہ غلط تاثر چیئرمین کی وجہ سے ہی گیا، آپ یاد کریں ورلڈ الیون سے سیریز کے وقت جب ویسٹ انڈین بورڈ چیف ڈیو کیمرون لاہور آئے تو انھوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ دورے کیلیے تیار ہیں مگر پلیئرز کو منانا سخت چیلنج ہوگا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*