بنیادی صفحہ / اہم خبریں / سوات کی حرا اکبر چلڈرن پیس پرائز کی لیے نامزد

سوات کی حرا اکبر چلڈرن پیس پرائز کی لیے نامزد


پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی جماعت ہفتم کی چودہ سالہ طالبہ حرا اکبر کو چلڈرن پیس پرائز کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
حرا اکبر اپنےعلاقےمیں بچوں پر سکولوں میں ہونے تشدد کے خلاف کام کررہی ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
حرا اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ وہ چائلڈ رائٹس کمیٹی کے چائلڈ پارلیمنٹ کی سپیکر بھی ہیں جس میں وہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور ان پر کام کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں تا کہ بچوں کو بہتر سے بہتر سہولیات میسر ہوں اور وہ بہتر تعلیم حاصل کریں۔

* ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر ’پیامبرِ امن‘ بن گئیںان کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر والدین بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر جیسا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔
حرا اکبر کہتی ہیں کہ ان کو اپنی مہم کے دوران کافی مشکلات کا سامنا بھی کرتا ہیں تاہم لوگوں کی اکثریت ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وہ بھی ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد کا رجحان سرکاری سکولوں میں زیادہ ہوتا ہیں یہی وجہ ہے کہ جسمانی تشدد کی وجہ سے بیشتر بچے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں اس سوال کے جواب میں کہ اگر ان کو ایوارڈ نہیں ملتا تو کیا وہ اپنی مہم جاری رکھیں گی؟ ان کا کہنا تھا کہ ایوارڈ ان کا مقصد نہیں ہے وہ یہ شعوری مہم معاشرے میں بچوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کررہی ہے ایوارڈ کی نامزدگی اس بات کا اعتراف ہے کہ مجھے کامیابی ملی ہے۔
حرا کے والد محمد اکبر نے بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ ’سوات میں حالات اگر چہ اب پرامن ہیں لیکن اب بھی بعض اوقات ایسی کئی مشکلات سامنے آجاتی ہیں جس سے حوصلہ شکنی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارا عزم غیر متزلزل ہیں اگرچہ ہمارے معاشرے میں ایسے کاموں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن میں اپنی بیٹی کو پوری طرح سپورٹ کررہا ہوں اور انشا اللہ وہ اپنی مقصد میں کامیاب ہوں گی۔‘
حرا کی والدہ کلثوم اکبر ایک سرکاری کالج میں لیکچرر ہیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ ان کی بچی کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی بیلای کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ہمیشہ سے ان کے ساتھ ہیں۔
حرا کی نامزدگی پر سوات کی بچیاں خوشی کا اظہار کررہی ہیں سیدو شریف سے تعلق رکھنے والی کلاس ہشتم کی طالبہ حنا نے بتایا کہ ’ہم بہت خوش ہیں کہ ہیرا نامزد ہوئی ہیں اور ہم سوات کی تمام بچیاں ہیرا اکبر کے ساتھ ان کے اس مہم میں شریک ہیں کیونکہ بچوں کے حقوق کے لیے ان کے خدمات نمایاں ہیں جس کو معاشرے کے لوگ سراہتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ ہیرا سوات میں چائلڈ اسمبلی کی اسپیکر ہے اس سے پہلے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اس اسمبلی کی اسپیکر تھی اور 2013 میں انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کا انعام ملالہ یوسف زئی کو دیا گیا تھا۔
چلڈرن پیس ایوارڈ کے لیے دنیا بھر کے 55 ممالک سے 151 افراد کو نامزد کیا گیا تھا حرا کے والد کے مطابق بعد ازاں ان میں 5 کو منتخب کرلیا گیا جن میں ہیرا بھی شامل جن میں 3 کو یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*