بنیادی صفحہ / اہم خبریں / جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں اور ان کا غصہ الفاظ میں سامنے آ گیا ہے‘

جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں اور ان کا غصہ الفاظ میں سامنے آ گیا ہے‘


اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔
اس سے پہلے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر تین ریفرنسز میں باضابطہ فردِ جرم عائد کرتے ہوئے سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں دائر نااہلی کے خلاف دائر درخواست کے منگل کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کل ان کا بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں سامنے آ گیا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جو الفاظ آئے ہیں اس میں وہ بغض ڈھل گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ’ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سارا بغض، غصہ اور سارے الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے۔‘
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو احتساب عدالت میں دائر ریفرنسز پر سماعت کے دوران عدالت میں سابق وزیراعظم کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی گئی اور اس پر ان کے دستحظ لیے گئے۔
سابق وزیراعظم نے فردِ جرم عائد ہونے کے بعد صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں وہ سیاسی ہیں اور انھیں شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔
احتساب عدالت پہلے ہی سابق وزیراعظم کی غیر موجودگی میں ان کے نمائندے کے سامنے تینوں ریفرنسز میں ان پر فرد جرم عائد چکی تھی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*