بنیادی صفحہ / اہم خبریں / گرفتاریاں بد عنوانی کے خلاف جاری مہم کا محض آغاز

گرفتاریاں بد عنوانی کے خلاف جاری مہم کا محض آغاز


سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ درجنوں شاہی شخصیات، وزرا اور کاروباری افراد کی گرفتاری دراصل بد عنوانی کے خلاف جاری مہم کا محض آغاز ہے۔
شیخ سعود المجیب نے ایک بیان میں ان گرفتاریوں کو ’بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے کے لازمی عمل کا آغاز‘ قرار دیا ہے۔
* سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاں
* کرپشن کے خلاف جنگ، گیارہ سعودی شہزادے گرفتار
* ’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘
اتوار کو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر کاروباری اور سیاسی قیادت کو عہدوں سے ہٹانے کی خبر سامنے آئی۔
اس کارروائی کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طاقت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
32 سالہ ولی عہد کی قیادت میں انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 11 شہزادوں، چار وزرا اور کئی سابق وزرا کو حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔
گرفتار افراد میں بین الاقوامی طور پر معروف تاجر شہزادہ الولید بن طلال شامل ہیں۔
اٹارنی جنرل جنرل شیخ سعود المجیب کے بیان میں، تحقیقات سے متعلق کہا گیا کہ اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کو ہے۔
بیان کے مطابق ’ٹھوس ثبوت پہلے ہی جمع ہو چکے ہیں اور کڑی تحقیقات کی گئی ہیں۔‘
’مشتبہ افراد کو قانونی وسائل کا استعمال کرنے کا حق ہوگا۔ مقدمات کو وقت پر اور شفافیت کے ساتھ قائم کیا جائے گا۔‘
سعودی وزارت اطلاعات و نشریات نے سنیچر کی شام ایک بیان میں بتایا کہ ‘مملکت کی تاریخ میں بے نظیر انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11شہزادوں اور 38 موجودہ اور سابق وزرا نائبین اور سرمایہ کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔’
بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کے بارے میں یہ تازہ ترین معلومات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر ہیلی کاپٹر حادثے کے تحقیقات بھی جاری ہیں۔
Prince Mansour bin Muqrin (4 November 2017)تصویر کے کاپی رائٹTWITTER/@ASIRMUNICIPAL
Image caption
پرنس منصور سابق انٹیلی جنس چیف اور سابق ولی عہد مقرن بن بن عبدالعزیز کے بیٹے تھے
اتوار کو ایک نائب گورنر شہزادہ منصور بن مقرن، سرحد کے قریب ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے وہ ایک معائنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔
پرنس منصور سابق انٹیلی جنس چیف اور سابق ولی عہد مقرن بن عبدالعزیز کے بیٹے تھے، جو جنوری اور اپریل 2015 کے درمیان ولی عہد بنے لیکن انہیں پرنس محمد کے والد، شاہ سلمان نے ہٹا دیا تھا۔
حراست میں لی جانے والی مندرجہ ذیل شخصیات کے نام سامنے آچکے ہیں
شہزادہ ولید بن طلال
شہزادہ متعب بن عبداللہ
شہزادہ ترکی بن عبداللہ(سابق گورنر ریاض)
شہزادہ ترکی بن ناصر (سابق سربراہ محکمہ موسمیات)
شہزادہ فہد بن عبداللہ بن محمد (سابق نائب وزیر دفاع)
خالد التویجری(سابق سربراہ ایوان شاہی)
محمد الطبیشی(سابق سربراہ ایوان شاہی)
عمرو الدباغ (سابق گورنر ساجیا)
سعود الدویش (سابق سربراہ ایس ٹی سی)
صالح کامل اور انکے بیٹے عبداللہ و محی الدین
الولید البراہیم (این بی سی گروپ کے مالک)
عادل فقیہ(سابق وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی)
ابراہیم العساف (سابق وزیر خزانہ)
عبداللہ السلطان (بحریہ کے سبکدوش کمانڈر)
خالد الملحم (السعودیہ کے سابق ڈائریکٹر)
بکر بن لادن(چیئرمین بن لادن گروپ)
اور سرمایہ کار محمد العمودی شامل ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*