بنیادی صفحہ / اہم خبریں / پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی جس پرنظر ثانی کی جائے،

پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی جس پرنظر ثانی کی جائے،


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے واضح کیا کہ پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی جس پرنظر ثانی کی جائے۔
پاناما کیس نظرثانی درخواستوں کے مختصر فیصلے کے پونے 2 ماہ بعد سپریم کورٹ نے 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی نااہلی سے متعلق شواہد غیرمتنازع تھے، انہوں نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کرایا اور جان بوجھ کر اثاثے چھپائے، کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثے بتانا قانونی ذمہ داری ہے، نوازشریف کمپنی کے ملازم تھے، ساڑھے6 سال کی تنخواہ کمپنی پر واجب الادا اور نوازشریف کا اثاثہ تھی یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ اثاثوں میں غلطی حادثاتی یا غیرارادی تھی، نااہلی کے معاملے کا محتاط ہوکرجائزہ لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں مریم نواز لندن فلیٹس کی مالک ہیں یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کا لندن فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں، نیب، آئی بی، اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی میں اعلیٰ شخصیت کا اثرورسوخ ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*