بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ایسی سپر ہیرو فلم جسے دیکھنے کے بعد پسند کیے بغیر نہیں رہا جاسکتاد

ایسی سپر ہیرو فلم جسے دیکھنے کے بعد پسند کیے بغیر نہیں رہا جاسکتاد


مارول اسٹوڈیوز کی ایوینجرز سیریز کی ایک اور فلم ’تھور: ریگنوروک‘ جمعہ تین نومبر کو دنیا بھر میں ریلیز ہورہی ہے اور اگر ناقدین کی آراءکو مانا جائے تو یہ سپرہٹ ثابت ہونے والی ہے۔

ڈائریکٹر تائیکا وائیٹیٹی نے پہلی مرتبہ مارول یونیورس کے لیے تھور سیریز کی اس تیسری فلم کی ہدایات دی ہیں۔

مزید پڑھیں : ہولی وڈ فلم ’تھور ریگنوروک‘ کا ٹریلر اور تصاویر جاری

کرس ہیم ورتھ ایک بار پھر تھور کے روپ میں نظر آئیں گے مگر اس مرتبہ وہ اپنے آئیکونک ہتھوڑے سے محروم ہوں گے جبکہ ان کے ساتھ ٹام ہیڈلسن لوکی کے کردار اور مارک ریفالو ہلک کے روپ میں نظر آئیں گے۔

اس فلم کے بارے میں ناقدین کی رائے آپ نیچے دیکھ کر اس ہفتے اسے دیکھنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان میں بھی ریلیز ہورہی ہے۔

ہولی وڈ رپورٹر
اس ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ فلم کی کہانی میں پہلی بار کرس ہیم ورتھ کو کچھ مزاح کرنے کا موقع دیا ہے اور انہوں نے اس میں کمال کر دکھایا ہے، اپنا مذاق اڑانا درحقیقت اس فلم کے لیے ایک خوش آئند امر ہے۔

دی ورج
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ کسی ایسی فلم کو بنانا جسے دیکھنا تفریح کا باعث ہو، آسان کام نہیں ہوتا، مگر تھور کی نئی فلم میں ایسا کرکے دکھایا گیا ہے اور اسے ایک نئی شخصیت دی گئی ہے جو کوئی چھوٹی بات نہیں، خاص طور پر اگر آپ کسی روایتی سپرہیرو فلم کے بارے میں سوچیں، تو یہ اس سے ہٹ کر ہے.

ایسوسی ایٹڈ پریس
اس خبررساں ادارے نے فلم کے بارے میں یہ رائے دی کہ اس فلم میں سب سے بہترین کردار کرس ہیم ورتھ کا رہا جنھوں نے تھور کے کردار کو مکمل طور پر مذاق بننے سے بچاتے ہوئے دکھایا کہ وہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ والکیر کے روپ میں ٹیسا تھامسن نے بھی کمال کر دکھایا۔

انٹرٹینمنٹ ویکلی
اس جریدے نے لکھا کہ یہ فلم تفریحی ہے اور مارول اسٹوڈیوز کی اب تک کی سب سے بہترین فلم ہے، ڈائریکٹر نے اپنا کام بخوبی سرانجام دیا، کرس ہیم ورتھ چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے رہے، ٹیسا تھامسن لگتا ہے کہ نئی اسٹار بن کر ابھرنے والی ہیں اور اس فلم کو دیکھتے ہوئے قہقہوں کو روکنا ناممکن ہوتا ہے۔

رولنگ اسٹون
اس ویب سائٹ نے فلم کو نان اسٹاپ ایکشن اور قہقہوں کا مجموعہ قرار دیا، جس میں کرس ہیم ورتھ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلم بنانے والوں نے اس اداکار کو کامیڈی کے لیے ہر بہترین موقع دیا۔

دی گارڈین
اس برطانوی اخبار نے بھی فلم اور مرکزی کردار کی ستائش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ فلم لوگوں کو ماضی کے کرداروں جیسے ہی مین وغیرہ کی یاد دلائے گی، تاہم اس کا پلاٹ کافی کمزور تھا جسے اداکاروں نے اپنی کردار نگاری سے کسی حد تک چھپا لیا ہے۔

ونیٹی فیئر
اس سائٹ کے مطابق یہ حیران کن ہے کہ مارول نے روایتی انداز سے ہٹ کر فلم کو مزاح کا رنگ دیا مگر لگتا ہے کہ ڈائریکٹر اتنے مضبوط تھے کہ اسٹوڈیو نے یہ خطرہ مول لینے کا سوچا، تاہم یہ ویب سائٹ فلم کا کمزور پہلو کیٹ بلانچیٹ کا ولن کا کردار تھا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*