بنیادی صفحہ / اہم خبریں / ‘خفیہ ہاتھ ملک میں جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں’

‘خفیہ ہاتھ ملک میں جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں’


وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کچھ ‘خفیہ ہاتھ’ ملک میں جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بار عوام اس روایت کو توڑ دیں گے۔

وزیر داخلہ نے اپنے فیس بک پیج پر جمہوری اور آمرانہ نظام کی تاریخ بتاتے ہوئے سوال کیا کہ ‘پاکستان کی تاریخ میں آزادی کے بعد جمہوری نظام کو ختم کرکے 1960 میں مارشل لاء لگایا گیا جس کے بعد 1970 میں پھر جمہوریت، 1980 میں مارشل لاء، 1990 میں جمہوریت، 2000 میں مارشل لاء جبکہ 2010 میں جمہوریت اب 2020 میں؟’

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ جمہوریت اور مارشل لاء کے درمیان ہی گھومتی رہی ہے اور اب یہ طریقہ کار بنتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ خفیہ ہاتھ تاریخ کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت کو پھر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

احسن اقبال نے سوال کیا کہ ‘کیا ملک اب جمہوری نظام کی تباہی کے اس طریقہ کار کو ختم کرنا چاہتا ہے یا اب بھی وہی روایت کو اپنایا جائے گا؟’

مزید پڑھیں: مایوسی کو اب امید میں بدلنا چاہیے، احسن اقبال

احسن اقبال کا ملک کے لیے امید ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سوائے چند ناکام سیاستدانوں، بکے ہوئے میڈیا اینکرز اور ریٹائرڈ افسران کے عوام اس طریقہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنے مستقبل اور پاکستان کی ترقی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘حکومت نے صرف باتیں نہیں کیں کام کر کے دکھائے‘

فیس بک پر ایک کمنٹ میں مسلم لیگ (ن) کے کردار کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’تاریخ میں ضیا الحق کے مارشل لاء لگانے، بینظیر کو برطرف کیے جانے اور یوسف رضا گیلانی کو ہٹانے کی غلطی میں ہم سب ملوث تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں ہم سب نے غلطیاں کیں، یہاں تک کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی، اس لیے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے گئے، لیکن اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔‘

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*