بنیادی صفحہ / اہم خبریں / تھری ڈی ہاتھ کی مدد سے بچی کھیلنے کے قابل

تھری ڈی ہاتھ کی مدد سے بچی کھیلنے کے قابل


گزشتہ چند سال سے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے جہاں گھنٹوں میں بڑے بڑے محل تیار کیے جا رہے ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی سے میڈیکل سائنس میں بھی فائدہ لیا جا رہا ہے۔

تھری ڈی ٹیکنالوجی نے جہاں صنعت و تجارت کو نیا موڑ دیا ہے، وہیں اس سے میڈیکل سائنس میں بھی انقلاب برپا ہوچکا ہے۔

تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے طبی سائنسدان جہاں پہلے دانت، سانس کی نالی اور خاتون کی بچے دانی بھی تیار کرچکے ہیں، اب وہیں امریکی ماہرین نے اس ٹیکنالوجی سے ہاتھ اور پاؤں بنانا بھی شروع کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہاتھوں والا بچہ کھیلنے کے قابل
ویسے تو مختلف ممالک میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مد سے مصنوعی ہاتھ بھی بنائے جا چکے ہیں، لیکن ایسے مصنوعی ہاتھوں کو انسانی جسم میں نصب کرکے انہیں عام انسانی عضو کی طرح حرکت میں لانا بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

کیوں کہ تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والے زیادہ تر مصنوعی عضووں کو انسانی جسم اور ذہن فوری طور پر قبول نہیں کرتا، جس وجہ سے بعض اوقات ایسے عضوے انسان میں نصب کیے جانے کے بعد حرکت نہیں کرتے۔

تاہم امریکا کی یونیورسٹی آف نواڈا کے ماہرین کی ٹیم نے نہ صرف تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ہاتھ تیار کیا، بلکہ انہوں نے ایک 7 سالہ بچی کے بازوں میں اس ہاتھ کو نصب بھی کیا، جو اب عام ہاتھ کی طرح حرکت بھی کرنے لگا ہے۔

تھری ڈی ہاتھ کی مدد سے بچی کھیلنے کے قابل
ویب ڈیسک29 اکتوبر 2017
0
0
—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ
گزشتہ چند سال سے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے جہاں گھنٹوں میں بڑے بڑے محل تیار کیے جا رہے ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی سے میڈیکل سائنس میں بھی فائدہ لیا جا رہا ہے۔

تھری ڈی ٹیکنالوجی نے جہاں صنعت و تجارت کو نیا موڑ دیا ہے، وہیں اس سے میڈیکل سائنس میں بھی انقلاب برپا ہوچکا ہے۔

تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے طبی سائنسدان جہاں پہلے دانت، سانس کی نالی اور خاتون کی بچے دانی بھی تیار کرچکے ہیں، اب وہیں امریکی ماہرین نے اس ٹیکنالوجی سے ہاتھ اور پاؤں بنانا بھی شروع کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہاتھوں والا بچہ کھیلنے کے قابل
ویسے تو مختلف ممالک میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مد سے مصنوعی ہاتھ بھی بنائے جا چکے ہیں، لیکن ایسے مصنوعی ہاتھوں کو انسانی جسم میں نصب کرکے انہیں عام انسانی عضو کی طرح حرکت میں لانا بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

کیوں کہ تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والے زیادہ تر مصنوعی عضووں کو انسانی جسم اور ذہن فوری طور پر قبول نہیں کرتا، جس وجہ سے بعض اوقات ایسے عضوے انسان میں نصب کیے جانے کے بعد حرکت نہیں کرتے۔

تاہم امریکا کی یونیورسٹی آف نواڈا کے ماہرین کی ٹیم نے نہ صرف تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ہاتھ تیار کیا، بلکہ انہوں نے ایک 7 سالہ بچی کے بازوں میں اس ہاتھ کو نصب بھی کیا، جو اب عام ہاتھ کی طرح حرکت بھی کرنے لگا ہے۔

Follow
Play Ball ✔@PlayBall
Hailey Dawson brings the Houston crowd to its feet! #WorldSeries
5:34 PM – Oct 28, 2017
18 18 Replies 771 771 Retweets 2,197 2,197 likes
Twitter Ads info and privacy
مزید پڑھیں؛ تھری ڈی پرنٹر سے سانس کی نالی تیار
لاس وگاس میں قائم یونیورسٹی آف نواڈا کے ماہرین کی ٹیم نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے 37 سی اے ڈی ماڈل کا مصنوعی ہاتھ تیار کیا، جسے 7 سالہ بچی ہیلی ڈاؤسن کے بازوں میں نصب کیا گیا۔

ہیلی ڈاؤسن کا ایک ہاتھ جینیاتی بیماری کے باعث نا مکمل تھا، ان کے ہاتھ کی تین انگلیاں نہیں تھیں، جس وجہ سے وہ کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھی۔

جہاں ہیلی ڈاؤسن کے ہاتھ میں انگلیاں نہیں تھیں، وہیں ان کا ہاتھ کوئی بھی کام کرنے کے لیے ایکٹو نہیں تھا، جس وجہ سے ان کے والدین نے یونیورسٹی آف نواڈا کے ماہرین سے مدد کی اپیل کی۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ
یونیورسٹی آف نواڈا کے ماہرین نے نہ صرف ہیلی ڈاؤسن کے لیے مصنوعی ہاتھ تیار کیا، بلکہ انہوں نے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی بازوں، پاؤں ، انگلیاں اور ہاتھ بھی تیار کرلیے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*