بنیادی صفحہ / اہم خبریں / لاہور: پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن ہائی کورٹ کے7 ایڈیشنل ججوں کی سبکدوش پر متفق نہ ہوسکیں

لاہور: پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن ہائی کورٹ کے7 ایڈیشنل ججوں کی سبکدوش پر متفق نہ ہوسکیں


لاہور: اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی نے لاہور ہائی کورٹ کے 7 ایڈیشنل ججوں کو سبکدوش کرنے سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ جوڈیشل کمشن کو بھجوا دیا ہے ۔جوڈیشل کمیشن کی طرف سے جن دیگر7ایڈیشنل ججوں کے عہدہ میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کی گئی تھی ،پارلیمانی کمیٹی نے ان میں سے 3ججوں کی مدت ملازمت میں اضافہ کی منظوری دینے سے بھی انکارکردیا ہے ۔12اکتوبر کو چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جوڈیشل کمشن نے لاہور ہائی کورٹ کے 14میں سے 7ایڈیشنل ججوں کے عہدہ میں ایک سال کی توسیع کی منظوری جبکہ دیگر7ایڈیشنل ججوں کوسبکدوش کرنے کی منظوری دیتے ہوئے اپنی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی تھیں جن سے پارلیمانی کمیٹی نے اتفاق نہیں کیااور سبکدوش کئے گئے 7ایڈیشنل ججوں کو بھی ایک سال کی توسیع دینے کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دیا ہے اور کہا ہے کہ ان ججوں کے عہدہ میں ایک سال کی توسیع نہ کرنے کافیصلہ قرین انصاف نہیں ہے ۔جوڈیشل کمیشن نے مسٹرجسٹس مجاہد مستقیم، مسٹرجسٹس طارق افتخار احمد ،مسٹرجسٹس اسجد جاوید گھرال ،مسٹرجسٹس طارق سلیم شیخ،مسٹرجسٹس جواد حسن،مسٹرجسٹس مزمل اختر شبیراور مسٹرجسٹس چودھری عبدالعزیز کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کی تھی ۔ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل سے بریفنگ حاصل کرنے کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے ان 7میں سے 3ججوں مسٹر جسٹس عبدالعزیز ،مسٹرجسٹس طارق سلیم شیخ اور مسٹر جسٹس مزمل اختر شبیر کے حوالے سے منفی ریمارکس دیئے ہیں اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دینے سے انکارکردیا ہے ،اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو یہ تین جج اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے ۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محمد بشیر پراچہ،جسٹس عبدالستار ،جسٹس حبیب اللہ عامر ،جسٹس احمد رضا گیلانی، جسٹس مدثر خالد عباسی ، جسٹس اورنگ زیب عبدالرحمن اورجسٹس آغا محمد علی کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کی منظوری نہیں دی تھی جس کے باعث وہ اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوگئے تھے ،ان آخر الذکر7ججوں کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کو ازسرنو جائزہ لینے کے لئے کہا ہے ۔یہ 14جج 26نومبر 2016ءکو لاہور ہائی کورٹ میں ایک سال کے لئے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے تھے اور12اکتوبر کے اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے ان میں سے 7ججوں کی مدت ملازمت میں ایک سال توسیع کی سفارش کی تھی جبکہ دیگر 7جج سبکدوش کردیئے گئے تھے ۔پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین محمد احسن بھون اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمن چودھری نے پارلیمانی کمیٹی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو اپنا آئینی کردار اسی انداز میں اداکرتے رہنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جس فیصلے کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی کے آئینی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ایک روزنامہ اخبار کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کے کردار کا جائزہ لینے کے لئے یکم نومبر کو تمام بارکونسلوں کا نمائندہ اجلاس اسلام آبادمیں طلب کرلیا گیا ہے جس میں اس آئینی معاملہ پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*